تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 328
مگر پھر بائیبل ہی بتاتی ہے کہ ’’ خداوند نے اپنی طرف سے سدوم اور عمورہ پرگندھک اور آگ آسمان سے بر سائی اور اُس نے اُن شہروں کو اور اُس ساری ترائی کو او ر اُ ن شہروں کے سب رہنے والوں کو اور سب کچھ جو زمین سے اُگا تھا غارت کیا۔‘‘ (پیدائش باب ۱۹ آیات ۲۴،۲۵) گویا وہ عہد جو بائیبل کی رو سے خدا تعالیٰ نے کیا تھا۔اُسے اُس نے خود ہی توڑ دیا اور سدوم کو آگ اور گندھک سے بر باد کر دیا۔اسی طرح بائیبل بتاتی ہے کہ موسیٰ ؑ کے زمانہ میں فرعون پر بھی مختلف عذاب آئے۔ایک دفعہ ایسا عذاب آیا کہ ’’ دریا کا پانی سب خون ہوگیا اور دریا کی مچھلیاں مر گئیں اور دریا سے تعفّن اُٹھنے لگا اور مصری دریا کا پانی نہ پی سکے۔‘‘ ( خروج باب ۷ آیت ۲۰، ۲۱) ایک دفعہ خدا تعالیٰ نے عذاب کے طور پر ملک مصر میں اتنے مینڈک پیدا کر دئیے کہ بائیبل بتاتی ہے کہ اُن مینڈکوں نے ملک مصر کو ڈھانک لیا۔( خروج باب ۸آیت ا تا ۷) ایک دفعہ عذاب کے طور پر اتنی جوئیں پید اہو گئیں کہ بائیبل کہتی ہے کہ ’’ تمام ملک مصر میں زمین کی ساری گرد جوئیں بن گئی۔‘‘ ( خروج باب ۸ آیت ۱۶ تا ۱۸) ایک دفعہ موسیٰ کی بد دعا سے ’’ سارے ملک مصر میں مچھروں کے غول کے غول بھر گئے اور اُن مچھروں کے غولوں کے سبب سے ملک کا ناس ہو گیا۔‘‘ (خروج باب ۸ آیت ۲۴) ایک دفعہ ایسی مری پڑی کہ مصریوں کے سب چوپائے مر گئے۔( خروج باب ۹ آیت ۵،۶) ایک دفعہ عذاب کے طور پر اللہ تعالیٰ نے مصریوں اور اُن کے جانورو ں کے جسموں پر پھوڑے اور پھپھولے پیدا کر دئیے۔(خروج باب ۹ آیت ۸ تا ۱۱ ) ایک دفعہ مصری قوم پر اولوں کا عذاب آیا اور یہ عذاب ایسا تھا کہ لکھا ہے۔’’ اولوں کے ساتھ آگ ملی ہو ئی تھی اور وہ اولے ایسے بھاری تھے کہ جب سے مصری قوم آباد ہوئی ایسے اولے ملک میں کبھی نہیں پڑے تھے۔‘‘ ( خروج باب ۹ آیت ۲۲ تا ۲۴) ایک دفعہ عذاب کے طور پر اتنی ٹڈیاں پیدا کر دیں کہ لکھا ہے۔