تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 326
لَيَالٍ وَّ ثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِيْهَا صَرْعٰى كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ ( الحاقۃ:۷،۸)یعنی عاد ایک ایسے عذاب سے ہلاک کئے گئے تھے جو ایک سخت تیز اور تند ہوا کی صورت میں آیا تھا۔خدا تعالیٰ نے اُس ہوا کو متواتر سات راتیں اور آٹھ دن اُن کی تباہی کے لئے مقرر کر چھوڑا تھا۔سو اُس کا نتیجہ تمہیں معلوم ہے کہ وہ قوم بالکل گِر گئی گویا وہ کھجور کے ایک کھوکھلے درخت کی جڑیں ہیں جن کوتیز آندھی نے گِرا کر رکھ دیا ہے۔فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءًکی صداقت کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہو گا کہ بعض یوروپین محققین عاد کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتے (Encyclopedia of Islam underword AD)حالانکہ یونان میں جو جغرافئیے لکھے گئے ہیں اُن میں ایک قبیلے کا نام عاد بھی موجود ہے (العرب قبل الاسلام زیر عنوان عاد ) جس سے قرآنی بیان کی صداقت واضح ہوتی ہے مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب نے اُن کو کوڑا کرکٹ بنا کر رکھ دیا تھا اس لئے بعض یوروپین محققین کو عاد کا وجود تسلیم کرنے میں ہی مشکل پیش آگئی۔ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِيْنَؕ۰۰۴۳مَا تَسْبِقُ مِنْ پھر اُن کے بعد ہم نے کئی اور قومیں پیدا کیں۔کوئی قوم اپنی مدت سے آگے نہیں گذرتی اور نہ ہی اس سے پیچھے اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا يَسْتَاْخِرُوْنَ۠ؕ۰۰۴۴ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا رہ (کر بچ)سکتی ہے۔پھر ہم نے اپنے رسول متواتر بھیجے۔جب کبھی کسی قوم کے پا س اُس کا رسول آتا تھا وہ تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ اُس کو جھٹلاتے تھے۔پس ہم اُن میں سے بعض کو بعض کے پیچھے پیچھے بھیجتے چلے جاتے تھے (یعنی ہلاک کرتے بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِيْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا جاتے تھے ) اور ہم نے اُن سب کو گذشتہ افسانے کر کے رکھ دیا (یعنی دنیا میں ان کا نام نشان باقی نہ رہا)اور يُؤْمِنُوْنَ۰۰۴۵ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰيٰتِنَا (ان کے متعلق فرشتوں کو حکم دیا کہ) جو لوگ ایمان نہیں لائے اُن کے لئے خدا کی لعنت (مقدر کرد و)۔پھر اُس کے بعد