تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 325

آنکھیں بند کرکے چلتے چلے جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ہمارا کام اتناہی ہے کہ ہم کھائیں پئیں اور اس چند روزہ زندگی کو عیش و آرام میں گذار دیں۔یہی وجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے انبیاء اُن کے پاس خدا تعالیٰ کا پیغام لے کر آتے ہیں تو وہ چونکہ اُن کے عقائد اور اعمال میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا کرنا چاہتے ہیں اس لئے اُن کو ایک دھکا لگتا ہے اور وہ یہ شور مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ تم ہمیں خدا تعالیٰ کے عذاب سے کیا ڈراتے ہو۔ہمارا تو یہ عقیدہ ہی نہیں کہ ہم مر کر پھر زندہ ہوںگے۔اس لئے ہمیںکسی جواب دہی کا کیا خطرہ ہو سکتا ہے۔ہم جو بھی عمل کریں گے اپنی اس چند روزہ حیات کے لئے کریں گے اور ہم اپنے نفع و نقصان کو سمجھنے کی خوب اہلیت رکھتے ہیں۔اس لئے تم ہمیں آخرت کے عذاب سے مت ڈرائو۔حقیقت یہ ہے کہ بعث بعد الموت پر ایمان ہی ایک ایسی چیز ہے جو انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کا خوف اور اُس کی محبت پیدا کرتی ہے اور اس کے اعمال کی اصلاح کا ایک اہم ذریعہ ہے۔اگر آئندہ زندگی پر ایمان نہ رہے تو نہ صرف تمام کا رخانۂ عالم کو ایک عبث اور لغو چیز تسلیم کرنا پڑتا ہے بلکہ نیکی اور تقویٰ میں ترقی بھی ایک بیکار عمل قرار پاتا ہے۔مگر یہ خیال کہ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند اور ستاروں اور سیّاروں اور آسمان اور زمین کے درمیان کی ہزارہا چیزیں پیدا کرکے اور اُن میں اپنی قدرت کے ہزارہا راز ودیعت کر کے ایک ایسے انسان کو پیدا کیا جس نے چند سالہ زندگی بسر کرکے ہمیشہ کے لئے فنا ہو جانا ہے اور اُس کی زندگی کا کوئی اہم مقصد نہیں ایک ایسا خیال ہے جسے کوئی عقل تسلیم نہیں کر سکتی۔انسان کے لئے اس قدر وسیع کائنات کا پیدا کرنا اور اُس پر عقل کے ذریعہ انسان کو حکومت بخشنا بتاتا ہے کہ اُس کے لئے اس محدود زندگی کے علاوہ کوئی اور مقصد بھی مقرر کیا گیا ہےاور اسلام کہتا ہے کہ وہ مقصد یہی ہے کہ اُسے ایک دائمی حیات کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور دائمی روحانی ترقیات کا راستہ اُس کے لئے کھولا گیا ہے۔پس موت کے صرف اتنے معنے ہیں کہ انسانی رُوح جسم سے جدا ہو گئی ورنہ رُوح پر کوئی فنا نہیں او ر وہ ہمیشہ زندہ رہتی اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے غیر متناہی مراتب حاصل کر تی رہتی ہے۔بہر حال انبیاء کے انکار کی ایک بڑی وجہ بعث بعد الموت کا انکار بھی ہوتا ہے جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب مخالفین نے ہمارے نبی کا انکار کیا اور اُس کی باتوں پر ہنسی اڑائی تو وہ ہمارے حضور جھکا اور اس نے دعا سے ہماری مددچاہی تب ہم نے اُسے الہام کیا کہ یہ لوگ تھوڑے عرصہ میں ہی ہمارے عذاب سے ہلاک ہو نے والے ہیں۔چنانچہ ایک دن عذاب آگیا اور ہم نے ان کو کوڑا کرکٹ بنا کر رکھ دیا قرآن کریم نے ایک دوسرے مقام پر بتا یا ہے کہ وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ۔سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ