تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 313

يٰسَمَآءُ اَقْلِعِيْ وَ غِيْضَ الْمَآءُ وَ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِيِّ وَ قِيْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ ( ہود :۴۵)یعنی اس کے بعد زمین سے کہہ دیا گیا کہ اے زمین ! تُو اب اپنے پانی کو نگل جا اور آسمان سے بھی کہہ دیا گیا کہ اے آسمان ! اب تُو برسنے سے تھم جا اور پانی کو جذب کر دیا گیا اور یہ معاملہ ختم کر دیا گیا۔اور وہ کشتی جو دی پہاڑ پر جا کر ٹھہر گئی اور کہہ دیا گیا کہ اے عذاب کے فرشتو! ظالم لوگوں کے لئے ہلاکت مقدر کر دو۔پس آیاتِ قرآنیہ سے یہ امر ثابت ہے کہ اس وقت آسمان سے بھی پانی برسا اور زمین کے سوتے بھی پھوٹ پڑے جس طرح کہ پہاڑی علاقوں میں جب شدید بارش ہوتی ہے تو اونچے پہاڑوں پر پڑی ہوئی برف کے گھلنے کی وجہ سے چشموں کے پانیوں میں بھی زیادتی آجاتی ہے۔اور قرآن کریم سے بھی اور تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام پہاڑی علاقہ میں رہتے تھے۔اسی لئے جب حضرت نوح ؑ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اے بیٹے !ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ مت شامل ہو تو ان کے بیٹے نے جواب دیا۔سَاٰوِيْۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعْصِمُنِيْ مِنَ الْمَآءِ(ہود:۴۴) میں ابھی کسی پہاڑ پر جا ٹھہروں گا جو اس پانی سے مجھے بچالےگا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کسی پہاڑی وادی میں رہا کرتے تھے اور ایسی جگہ پر پانی کا یکدم اونچا ہو جانا اور غیر معمولی طورپر بلند ہو جانا بالکل قرین قیاس ہے۔اُن کے بیٹے نے خیال کیا کہ میں آسانی سے تیر کر کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جائوں گا اور عذاب سے محفوظ ہو جائوںگا۔غرض حضرت نوح علیہ السلام کو بتا یا گیا کہ جب آسمان سے شدید بارش شروع ہو جائے یہاں تک کہ زمین کے سوتے بھی پھوٹ پڑیں اور تمام زمین جھیل بن جائے تو اس کشتی میں ہر قسم کے جوڑے اور اپنے اہل کو داخل کر دیجئیو۔عربی زبان میں زوج کے معنے کُلُّ وَاحِدٍ مَعَہٗ اٰخَرُ مِنْ جِنْسِہٖ کے ہوتے ہیں یعنی ہر وہ چیز جس کے ساتھ اُس کی جنس میں سے ایک اور وجود بھی ہو۔پس زوج کے معنے ساتھ کے جوڑے یعنی نر و مادہ کے ہوتے ہیں۔نہ کہ دو،دو چیزوںکے۔اسی وجہ سے اِثْنَیْنِ کا لفظ لگا کر واضح کر دیا گیا ہے کہ زَوْجَيْنِ سے مراددو ہم جنس افراد ہیں نہ کہ دو، دو جوڑے اور مراد یہ ہے کہ ہر قسم کے نر و مادہ اس ظاہر ی کشتی میں یا جماعت میں داخل کیجئیو۔اور اپنے اہل کو بھی داخل کیجئیو سوائے اُن کے جن کے خلاف خدا کا فیصلہ ہو چکا ہے۔اس جگہ جو اللہ تعالیٰ نے مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ فرمایا ہے تو اس کے یہ معنے نہیں کہ دنیا کے ہر جانور کے جوڑے لے لے۔ورنہ ماننا پڑےگا کہ اربوں ارب حشرات الارض اور کروڑوں کروڑ درندے پرندے اور جانورسب حضرت نوح ؑ نے اپنی کشتی میں جمع کرلئے تھے۔اس صورت میں تو انہیں اتنی بڑی کشتی بنانی پڑتی جو اُن کے ملک میں بھی سمانہ سکتی اور یہ عقل کے خلاف ہے۔