تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 312

حضرت نوح علیہ السلام کی جماعت ہے جس کے بننے میں کافر روک تھے۔کیونکہ درحقیقت نبی کی جماعت ہی ہوتی ہے جس میں شامل ہو کر لوگ نجات پاتے ہیں اور یہ جو فرمایا کہ جب ہمارا حکم آجائے اور تنور جوش میں آجائے تو اس کے متعلق مفسرین کہتے ہیں کہ یہ حضرت آدم ؑ کا تنور تھا (تفسیر کبیر لامام الرازی زیر آیت ھذا)مگر یہ بات محض قصّوں کی محبت کا نتیجہ ہے ورنہ آدم ؑ کا اس جگہ کوئی ذکر نہیں۔تنور کے معنے عربی زبان میں ایک تو اُس چیز کے ہوتے ہیں جس میں روٹی لگائی جاتی ہے اور تنور کے معنے سطح زمین کے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ تاج العروس میں لکھا ہے التَّنُّوْرُ وَجْہُ الْاَرْضِ۔تنور کے معنے سطح زمین کے بھی ہوا کرتے ہیں۔اسی طرح تنور کے معنے چشمہ کے بھی ہوتے ہیں اور تنور اُس پہاڑی وادی کو بھی کہتے ہیں جہاں پانی جمع ہو جائے( اقرب) لیکن ابو حیّان لکھتے ہیں کہ فَارَ التَّنُّوْرُ کا استعمال مجازی رنگ میں بھی ہوسکتا ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعہ پر جب کہ جنگ خوب تیز ہوگئی فرمایا کہ حَمِیَ الْوَطِیْسُ تنور گرم ہوگیا۔حالانکہ آپ کی مراد یہ تھی کہ جنگ خوب تیز ہوگئی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ فَارَ اور حَمِیَ ایک ہی معنے رکھتے ہیں جیسے قرآن کریم میں بھی آتا ہے کہ سَمِعُوْا لَھَا شَھِیْقًا وَّ ھِیَ تَفُوْرُ (الملک:۸) یعنی کفار جب جہنم میں ڈالے جائیںگے تو وہ اُس میں ایک بڑی چیخ سنیں گے اور وہ بڑے جوش میں آرہی ہوگی۔پس اُن کے نزدیک فَارَ التَّنُّوْرُ کے الفاظ مجازی رنگ میں استعمال ہوئے ہیں اور اُس کے معنے یہ ہیںکہ پانی چاروں طرف پھیل گیا۔ان دونوں معنوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے اس آیت کا یہ مفہوم ہے کہ جب ہمارے عذاب کا وقت آیا تو چشموں کی جگہ سے پانی پھوٹ پڑایا سطح زمین پر پانی بہنے لگا اور چاروں طرف پانی ہی پانی ہوگیا۔یہ عذاب جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے صرف زمینی چشموں کے پھوٹنے کی وجہ سے نہیں آیا بلکہ پانی کا اصل سرچشمہ بادل تھے۔یعنی اُس وقت اتنے زور سے بارش ہوئی کہ اُس سے چاروں طرف پانی ہی پانی ہو گیااور جس طرح کثرت بارش کی وجہ سے زمین کے سوتے بھی پھوٹ پڑتے ہیں اور دریاؤں کا پانی بھی اُچھل جاتا ہے اسی طرح اسی وقت زمین کے سوتے بھی جاری ہوگئے اور آسمانی اور زمینی پانی نے مل کر اُن لوگوں کو تباہ کر دیا چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک اور مقام پر فرماتا ہے کہفَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ۔وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُيُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ (القمر:۱۲،۱۳) یعنی ہم نے بادل کے دروازے ایک جوش سے بہنے والے پانی کے ذریعہ کھول دیئے اور زمین میں بھی ہم نے چشمے پھوڑ دیئے۔پس آسمان کا پانی زمین کے پانی کے ساتھ ایک ایسی بات کے لئے اکٹھا ہوگیا جس کا فیصلہ کیا جا چکا تھا۔یعنی آسمانی پانی زمینی پانی سے مل کر دنیا کو تباہ کرنے لگا۔اسی طرح سورۂ ہود میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب عذاب کا وقت پورا ہوگیا اور جس تباہی کا فیصلہ کیا جا چکا تھا وہ آچکی تو ہم نے کہا کہ يٰۤاَرْضُ ابْلَعِيْ مَآءَكِ وَ