تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 314
پس اس جگہ کُلّ کے معنے سب کچھ کے نہیں بلکہ ہرضروری چیز کے ہیں جیسے قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر ملکہ سبا کے متعلق آتا ہے کہ اُوْتِیَتْ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ ( النمل :۲۴)اُسے ہر ایک چیز دی گئی تھی۔اب ہر ایک چیز سے یہ مراد نہیں تھی کہ حضرت سلیمان ؑ اور ان کا لشکر بھی اُسے ملا ہوا تھا اور ہندوستان اور چین اور امریکہ بھی اُسے ملے ہوئے تھے بلکہ مراد یہ تھی کہ ہرچیز جس کی اُسے ضرورت ہے اُسے ملی ہوئی ہے۔اس جگہ بھیمِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ سے یہی مراد ہے کہ ہر وہ جاندار جس کی تجھے ضرورت ہے اُس کے نر و مادہ ساتھ رکھ لے۔نہ یہ کہ ہاتھی اور شیر اور چیتے کو بھی رکھ لےاوراِثْنَیْنِ کا لفظ تاکید کے لئے ہے کوئی نئے معنے نہیں دیتا۔مطلب یہ ہوا کہ نر و مادہ جو مل کر دو بنتے ہیں اور جن سے آئندہ نسل چلتی ہے۔اگر کشتی سے اس جگہ جماعت مراد لی جائے تو یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ ظاہر ی کشتی کی صور ت میں تو یہ معنے لئے جا سکتے ہیں کہ ہر قسم کے ضروری جانور نر و مادہ کی صورت میں اپنے پاس رکھ لے۔لیکن جماعت کی صورت میں کیا معنے ہوںگے؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ جماعت کی صورت میں اس سے مراد ہر قسم کے رُوحانی لوگ ہوںگے۔یعنی اپنی جماعت میں ہر قسم کے لوگوں کو داخل کرو۔غریب بھی اور امیر بھی اوردر میانہ درجہ کے بھی اور اس کی پرواہ نہ کرو کہ لوگ ان کو ذلیل سمجھتے ہیں یا کیا سمجھتے ہیں۔اگر کہا جائے کہ جماعت میں داخل کرنا تو حضرت نوح ؑ کے اختیار میں نہیں تھا یہ تو لوگوں کے اپنے اختیار میں تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت نوح ؑ کوشش تو کر سکتے تھے۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ صرف امراء کی طرف توجہ کرتے ہیں۔بعض غرباء کی طرف توجہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔بعض درمیانہ درجہ کے لوگوں کی طرف توجہ رکھتے ہیں۔بعض علماء کی طرف متوجہ ہوتے ہیں بعض پیشہ وروں کی طرف میلان رکھتے ہیں ، بعض زمینداروں کی طرف توجہ کرتے ہیں اور بعض تاجروں کی طرف توجہ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کوبتایا کہ اگر جماعت کو پھیلانا مقصود ہے تو ہر طبقہ اور ہر قسم کے ایسے لوگوں کی طرف توجہ کرو جو آپس میں تعاون کی رُوح رکھتے ہوں یعنی جوڑوں کی مانند ہوں اور یہ جو زوجین فرمایا تو جماعت کی صورت میں اس کے معنے نر و مادہ کے نہیں ہوںگے بلکہ مراد یہ ہوگی کہ ایسے لوگ جو ایک دوسرے سے اُنس اور محبت رکھتے ہوں اور تعاون کرنے والے ہوں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مدینہ جا کر ایک ایک مہاجر اور ایک ایک انصاری کو بھائی بھائی بنا دیا تھا۔گویا وہ زوجین ہو گئے تھے (بخاری کتاب مناقب الانصار باب اخاء النبی بین المھاجرین و الانصار)۔یہی نصیحت حضرت نوح علیہ السلام کو کی گئی ہے۔اور کہا گیا ہے کہ اپنی جماعت میں اخوت پیدا کرو۔اور اپنے ماننے والوں کو جو ہر طبقہ کے لوگ ہوں آپس میں بھائی بھائی بنائو۔یا عورتوں کو بہنیں بنائو۔پھر اُن سب کو لے کر ایک جگہ پر