تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 284

ان غذاؤں کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے جو زمین سے حاصل ہوتی ہیں اسی طرح روحانیت کا بیج بھی اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتاجب تک انسان کے اندر خشوع و خضوع اور فروتنی کی حالت پیدا نہ ہو اور کبر اور غرور کا مادہ اُس کے اندر سے نہ نکل جائے۔پھر جب انسان اس غذا کو کھاتا ہے جو مٹی میں سے نکلتی ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے نطفہ بنا کر ایک ٹھہرنے والی جگہ پر رکھ دیتا ہے جو جسمانی پیدائش کا دوسرا درجہ ہے۔روحانی پیدائش میں اس کے مقابل پر وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ کو رکھا گیا ہے اور بتا یا گیا ہے کہ جس طرح نطفہ کی حفاظت کے لئے مختلف قسم کی احتیاطوں کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ اُس کے ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔اسی طرح روحانیت کا بیج بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ انسان ہر قسم کے لغو کاموں سے بچے ورنہ انسان کی روحانی پیدائش تکمیل تک نہیں پہنچ سکتی۔پھر تیسرا درجہ یہ بتایا کہ ہم نطفہ کو علقہ بنا دیتے ہیں یعنی وہ ایک جمے ہوئے لہو کی طرح ہو جاتا ہے۔رُوحانی درجات میں اس کے مقابل پروَ الَّذِيْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَ کو رکھا گیا ہے۔یعنی جس طرح نطفہ علقہ بن جاتا ہےاور رحم سے چمٹ جاتا ہے اسی طرح روحانی ترقی کرنے والا انسان ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ بنی نوع انسان کی محبت اس کے دل میں پیدا ہوجاتی ہے اور وہ بنی نوع انسان کی ترقی کے لئے اپنے اموال خرچ کرنے لگ جاتا ہے۔پھر چوتھا درجہ انسانی پیدائش کا یہ بیان فرمایا کہ جما ہوا لہو ایک بوٹی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔یعنی خون کے لوتھڑے میں جو گندگی پائی جاتی ہے وہ اس سے بچ جاتا ہے اس کے مقابلہ میںوَ الَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَکو رکھا گیا ہے۔یعنی وہ اپنے تمام سوراخوں کی حفاظت کرنے لگ جاتا ہے اور اب اس کا وجود ایک مستقل وجود بن جاتا ہے جو گندگی سے اپنے آپ کو اپنے ارادہ سے محفوظ رکھتا ہے۔پھر پانچواں درجہ یہ بتا یا کہ بوٹی کے بعد ہڈی جسم میں بننی شروع ہو جاتی ہے۔اس کے مقابلہ میں رُوحانی درجہ یہ بتایا کہ وہ امانتوں اور عہدوں کی پابندی کرتے ہیں یعنی اُن میں ایسی روحانی سختی پیدا ہو جاتی ہے کہ خواہ ان کے پاس کوئی دشمن امانت رکھوائے یا کوئی مخالف قوم ان کے ساتھ معاہدہ کرے وہ اس کی پابندی کرتے ہیں۔کسی قسم کا لالچ یا کمزوری اُن میں پیدا نہیں ہوتی۔گویا ہر شخص جانتاہے کہ وہ موقع پر پھر نہیں جائیں گے بلکہ بات کے پکے رہیں گے۔جسمانی پیدائش کا چھٹا درجہ یہ بتایا کہ ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا جاتا ہے۔اس کے مقابلہ میں روحانی درجہ یہ بیا ن کیا کہ وہ اپنی اور اپنی قوم کی نمازوں کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔یعنی جس طرح چمڑے کے چڑھ جانے کے بعد بچہ بہت حد تک ضائع ہو جانے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔اسی طرح وہ لوگ جو اپنی قوم میں خدا تعالیٰ کی عبادت کو قائم رکھتے ہیں وہ نہ صرف ذاتی طور پر محفوظ ہو جاتے ہیں بلکہ قومی طور پر بھی محفوظ ہو جاتے ہیں اور بوجہ قوم کے نیک ہو جانے کے وہ بیرونی اثرات سے بھی اُسی طرح محفوظ ہو جاتے ہیں جیسے