تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 285

چمڑے والا انسان بیرونی اثرات سے محفوظ ہوتا ہے۔جسمانی پیدائش میں ساتواں درجہ یہ بیان فرمایا کہ جب ہڈیوں پرگوشت اور چمڑہ مڑھ دیا جاتا ہے تو ہم اُن کو ایک دوسری پیدا ئش دے دیتے ہیں۔اور وہ پیدا ہو کر بشر بن جاتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں روحانی کمال کا یہ درجہ بیان فرمایا کہ وہ مر کر ایسے انعامات کے وارث ہوتے ہیں جو سب انعامات کا مجموعہ ہوتے ہیں یعنی جس طرح جسمانیات میں انسان تمام جانوروں کے کمالات کا مجموعہ ہے اسی طرح روحانی انسان مر کر تمام قسم کی نعمتوں کے مجموعہ کو حاصل کر لیتے ہیں۔اور جس طرح مادی انسان اپنی اور اپنی قوم کی حفاظت پر قادر ہو جاتا ہے روحانی انسان کی روحانی حفاظت کا اللہ تعالیٰ خود ذمہ اٹھا لیتا ہے۔جسمانی خلق کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہفَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ۔کیا ہی برکت والا ہے وہ خدا جو سب سے بہتر طور پر مخلوق پیدا کرنےوالا ہے۔یہی آیت روحانی پیدائش کے ساتھ بھی لگتی ہے یعنی جب انسان روحانیت میں ترقی کرتے کرتے اس مقام کو حاصل کر لیتا ہے تو اسے ایک نئی روحانی پیدائش عطا کی جاتی ہے جو تمام انسانوں کو ایک اچنبھا نظر آتی ہے اور اُسے دیکھ کر ہر شخص خدا تعالیٰ کی حمد پر مجبور ہو جاتا ہے۔ٍ اس آیت کے ساتھ ایک تاریخی واقعہ بھی وابستہ ہے جس کا یہاں بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک کاتب وحی تھا جس کا نام عبداللہ بن ابی سرح تھا۔آپؐ پر جب کوئی وحی نازل ہوتی تو اُسے بلوا کر لکھوا دیتے۔ایک دن آپؐ یہی آیتیں اُسے لکھوا رہے تھے۔جب آپثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَپر پہنچے تو اُس کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہفَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی وحی ہے اس کو لکھ لو۔اُس بدبخت کو یہ خیال نہ آیا کہ پچھلی آیتوں کے نتیجہ میں یہ آیت طبعی طور پر آپ ہی بن جاتی ہے۔اُس نے سمجھا کہ جس طرح میرے منہ سے یہ آیت نکلی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو وحی قرار دے دیا ہے اسی طرح آپ نعوذباللہ خود سارا قرآن بنا رہے ہیں چنانچہ وہ مرتد ہوگیا۔اور مکہ چلا گیا۔فتح مکہ کے موقعہ پر جن لوگوں کو قتل کرنےکا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا اُن میں ایک عبداللہ بن ابی سرح بھی تھا۔مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے پناہ دے دی اور وہ آپ کے گھر میں تین دن چُھپا رہا۔ایک دن جب کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے لوگوں سے بیعت لے رہے تھے حضرت عثمانؓ عبداللہ بن ابی سرح کو بھی آپ کی خدمت میں لے گئے اور اُس کی بیعت قبول کرنے کی درخواست کی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے توکچھ دیرتامل فرمایا مگر پھر آپ نے اُس کی بیعت لے لی۔اور اس طرح دوبارہ اُس نے اسلام قبول کر لیا۔( ابو داؤد کتاب