تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 283
عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا پھر اُس بوٹی کو ہم نے ہڈیوں کی شکل میں تبدیل کر دیا۔پھر اُن ہڈیوں پر ہم نے گوشت چڑھایا۔فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ پھر اس کوا یک اور شکل میں تبدیل کردیا پس بہت ہی برکت والا ہے اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَؕ۰۰۱۵ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَؕ۰۰۱۶ وہ خدا جو سب سے اچھا پیدا کرنے والا ہے۔پھر تم لوگ اس کے بعد مرنے والے ہو۔ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ۰۰۱۷ پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جانے والے ہو۔حلّ لُغَات۔سُلَا لَۃٌ۔اَلسُّلَا لَۃُ کے معنے ہیں مَااسْتُلَّ مِنَ الشَّيْءِ وَالْخُلَاصَۃُ لِاَ نَّھَا تُسَلُّ مِنَ الْکَدَرِ۔یعنی وہ چیز جو کسی دوسری چیز سے کھینچ کر نکال لی جائے۔یا کسی چیز کا جو ہر جو ہر قسم کی میل کچیل اور تلچھٹ سے پاک کرلیا جائے۔اسی طرح اَلسُّلَا لَۃُ کے ایک معنے اَلنَّسْلُ وَالْوَلَدُ کے بھی ہیں یعنی انسانی نسل اور اولاد۔(اقرب) طِیْن۔اَلطِّیْنُ: تُرَابٌ اَوْ رَمْلٌ وَ کِلْسٌ یُجْبَلُ بِالْمَاءِ وَیُطْلٰی بِہٖ یعنی طین اُس مٹی یا ریت اور چونا کو کہتے ہیں جس میں پانی ملایا گیا ہو اور اس کے ساتھ لپائی کی جائے۔(اقرب) عَلَقَۃً۔علق کے معنے خون کے ہوتے ہیں۔خصوصًا اُس خون کے جو گاڑھا اور جما ہوا ہواور عَلَقَۃٌ کے معنے ہیں اَلْقِطْعَۃُ مِنَ الْعَلَقِ لِلدَّمِ۔یعنی خون کا لوتھڑا۔(اقرب) اَلْمُضْغَۃُ۔اَلْمُضْغَۃُکے معنے ہیں قِطْعَۃُ لَحْمٍ یعنی گوشت کی بوٹی۔( اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے کہ جس طرح یہ سات رُوحانی پیدائش کے مدارج ہیں اسی طرح تمہاری جسمانی پیدائش کے بھی مختلف مدارج ہیں۔سب سے پہلے ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کرتے ہیں یعنی اس غذا سے جو مٹی سے نکلتی ہے جیسے نباتات ، حیوانات اور جمادات وغیرہ یہی حال عالمِ روحانیات کا بھی ہے۔یعنی جس طرح نطفہ