تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 274

اور پھر فروخت کر دی جاتی ہیں اور بعض لوگ ان الفاظ کے یہ معنے لیتے ہیں کہ جو عورتیں جہاد میں حاصل ہوں وہ بغیر نکاح کے گھروں میں رکھنی جائز ہیں لیکن یہ سب معنے غلط ہیں۔قرآن کریم میں اور احادیث میں نوکروں اور غلاموں کا الگ الگ ذکر ہے۔اس لئے نوکر اس میں شامل نہیں۔اور غلاموں کے متعلق قرآن کریم صاف طورپر فرماتا ہے کہ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ(الانفال :۶۸) یعنی کسی نبی کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی پُر امن قوم میں سے مردجنگی قیدی یا عورت جنگی قیدی زبردستی پکڑ لائے جب تک کہ اُس کے اور اس کے دشمنوں کے درمیان خونریز جنگ نہ ہولے۔یعنی یونہی کسی قوم میں سے جو جنگ نہ کر رہی ہو قیدی پکڑنے جائز نہیں جیسا کہ سینکڑوں سال سے حجاز کے لوگ حبشہ سے غلام پکڑ لاتے ہیں یا جیسا کہ گذشتہ صدیوں میں عراق کے لوگ ایران سے یا روم سے یا یونان سے یا اٹلی کے جزیروں سے غلام پکڑ کر لے آتے تھے۔ایسی غلامی اسلام میں جائز نہیں۔صرف جنگی قیدی پکڑنے جائز ہیں اورجنگی قیدی پکڑنے بھی صرف اس وقت جائز ہیں جبکہ دشمن سے باقاعدہ جنگ ہو جائے اور ایسے وقت میں بھی یہ حکم ہے کہ جنگی قیدی کا فدیہ لے کر اُسے چھوڑ دو۔اور اگر اُس کے پاس فدیہ نہ ہو یا اُس کی قوم اس کا فدیہ دینے کو تیار نہ ہو تو پھر حکومتِ اسلامیہ اُسے احسان کے طور پر چھوڑ دے۔( محمد :۵) اور اگر احسان کے طور پر چھوڑنا اس کے لئے مشکل ہو تو زکوٰۃ کے روپیہ میں سے اُس کا فدیہ دے کر اُسے چھوڑ دے (التوبۃ :۶۰) اور اگر اس میں بھی مشکل ہو تو قیدی کو مکاتبت کا اختیار دیا جائے۔(النور :۳۴)مکاتبت کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ جنگی قیدی اپنے مالک سے یہ کہتا ہے کہ تم مجھے آزاد کر دو میں محنت اور کمائی کرکے اپنا فدیہ ادا کر دوںگااور اس وقت تک اپنی ذاتی تجارتوں وغیرہ میں آزاد سمجھا جاؤںگا۔صرف اسلامی ملک میں رہنے کا وہ پابند ہوتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی عورت اوپر کے تمام طریقوں کے باوجود آزاد ہونا نہ چاہے گی تو وہ عورت ایسی ہی ہوگی جو اپنے ملک میں جانا اپنے لئے خطرناک سمجھتی ہوگی اور مسلمان مرد کے پاس رہنے کا جو خطرہ تھا اس کے راستے کھلے ہونے کے باوجود اُن کو استعمال کر نا پسند نہ کرے گی اور جو عورت باوجود ہر قسم کی سہولت کے مسلمان گھرانے سے نکلنا پسند نہ کرے گی اس عورت سے جبراً شادی کر لینے کے سوامسلمان مرد کے لئے کوئی چارہ نہیں کیونکہ اگر وہ آزاد نہ ہوگی اور مسلمان مرد اس سے جبراً شادی نہ کرے گا تو وہ گھر میں اور علاقہ میں بدکاری پھیلائےگی اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔پس آزاد عورتوں اور جنگی عورتوں میں اتنا ہی فرق ہے کہ آزاد عورت کے لئے اپنی مرضی سے نکاح کرنا جائز ہوتا ہے اور وہ عورت جو جنگی قیدی ہو وہ یا تو ان طریقوں سے اپنے آپ کو آزاد کرا لیتی ہے جو اسلام نے اس کے لئے کھلے رکھے ہیں یا پھرجس گھر میں وہ ہوتی ہے اُس کا کوئی مرد اُس سے شادی کر لیتا ہے تاکہ بدکاری نہ پھیلے اور اگر اس کے ہاں بچہ