تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 275
پیدا ہو جائے تو پھر وہ آزاد ہو جاتی ہے۔پس داہنے ہاتھوں کی ملکیت کے الفاظ سے کوئی شخص دھوکہ نہ کھائے۔ان الفاظ کے معنی غلامی کے نہیںکیونکہ غلامی اسلام میں جائز نہیں۔قرآن کریم صاف الفاظ میں فرماتا ہے کہ جب تک کسی قوم کے ساتھ بھاری جنگ نہ ہو اُس میں سے قیدی پکڑنے جائز نہیں اور پھر انہیں بھی مختلف طریقوں سے آزاد کرنے کا حکم ہے۔جو زیادہ تر اسلامی حکومت یا کفر کی حکومت یا قیدی کے رشتہ داروں یا خود قیدی کے اختیار میں ہیں۔اور اگر کسی قیدی عورت کے چھڑانے کے لئے نہ تو اسلامی حکومت کوشش کرتی ہے جو کہ غیر جانبدار ہے نہ کافر حکومت کوشش کرتی ہے جو کہ قیدی کی جانبدار ہے۔نہ اس کے رشتہ دار کوشش کرتے ہیں جن کو سب سے زیادہ اُس کا درد ہےاور نہ وہ عورت خود کوشش کرتی ہے جس کو اپنی عزت کا خیال سب سے زیادہ ہو سکتا ہے اور پھر کوئی مسلمان اس عورت سے شادی کرلے۔تو اس کے لئے یہ راستہ کھلا رکھا جاتا ہے کہ اولاد ہوتے ہی وہ آزاد ہو جائےگی اور باوجود جنگی قیدی ہونے کے اسے بچنا ناجائز نہ ہوگا۔اب بتاؤ ایسی عورت آزاد ہوئی یا قید۔پہلے تو اس کا قید کرنا کئی طرح ناجائز قرار دیا گیا۔پھر اس کی آزادی کے لئے اس کی شادی سے پہلے کئی راستے کھولے گئے۔پھر شادی کے بعد اولاد ہونے پر اُس کو آزاد قرار دیا گیا اور ہمیشہ کے لئے یہ گارنٹی دی گئی کہ اُسے کسی صورت میں بھی فروخت نہیں کیا جا سکتا۔(المحلّٰی بالاثار کتاب العتق و أمھات الاولادالمسألة کل مملوکۃ حملت من سیدھا۔۔۔۔) اب بتاؤ کہ کیا دنیا میں کسی آزاد عورت کو اس سے زیادہ حق ہوتے ہیں۔پانچواں درجہ روحانی ترقی کا یہ بتایا کہ مومن اپنی امانتوں اور اپنے عہدوں کا خیال رکھتے ہیں۔یعنی جو امانت اس کے پاس رکھوائی جائے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور جو عہد کرتے ہیں خواہ وہ کسی کافر یا دشمن سے ہی کیوں نہ ہو اُسے پورا کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم امانت اور دیانت کے اصول پر اتنی سختی سے عمل کرتے تھے کہ تاریخوں میں لکھا ہے جن دنوں اسلامی افواج نے خیبر کا محاصرہ کیا ہوا تھا ایک یہودی رئیس کا گلہ بان جو اُس کی بکریاں چرایا کرتا تھا مسلمان ہو گیااور اُس نے کہا یا رسول اللہ میں اب ان لوگوں میں تو نہیں جا سکتالیکن میرے پاس اپنے یہودی آقا کی جو بکریاں ہیں ان کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بکریوں کا منہ یہودی قلعہ کی طرف کردواور اُن کو ادھر دھکیل دو۔اللہ تعالیٰ خود انہیں ان کے مالک کے پاس پہنچا دے گا۔چنانچہ اُس نے ایسا ہی کیا اور بکریاں قلعہ کے پاس چلی گئیں جہاں سے قلعہ والوں نے اُن کواندر داخل کر لیا۔(السیرۃ الحلبیہ باب ذکر مغازیہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۃ خیبر) اس واقعہ پر غور کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم