تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 273

حافظ روشن علی صاحبؓ سے پوچھا کہ کیا آپ نے لنڈن میں کسی کو چلتے بھی دیکھا ہے۔انہوں نے کہا ہم نے تو کسی کو چلتے نہیں دیکھا جس کوبھی دیکھا ہے دوڑتے ہوئے دیکھا ہے۔وہاں ہم نے ایک عمارت بنتی دیکھی تو حیرت آگئی کہ کس پھرتی کے ساتھ مزدور وہاں کام کر رہے ہیں۔ہمارا مزدور جب اینٹ اُٹھا نے لگتا ہے تو ہاتھوں میں اٹھا کر اور ایک آہ بھر کر ٹوکری میں ڈالتا ہے پھر دوسری اینٹ اٹھاتا اور یہ دکھانے کے لئے کہ وہ کام کر رہا ہے اس طرح پھونک مار مار کر اُس پر سے گرد ہٹاتا ہے کہ گویا اطلس یا کمخواب کا کوئی تھان اس کے سامنے پڑا ہوا ہے۔کبھی وہ اس کے ایک طرف پھُونک مارےگا اور کبھی دوسری طرف اور بہانہ صرف یہ ہوگاکہ کچھ نہ کچھ دیر لگ جائے۔پھر آرام سے اٹھتا ہے اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اُسے معمار کے پاس لے جاتا ہے اور جب اس انداز میں وہ دو تین ٹوکریاں اُٹھا لیتا ہے تو اس کے بعد بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے۔میں حقہ کے دو گھونٹ تو پی لوں مگر انگلینڈ میں یہ بات نہیں۔وہاںہر شخص دوڑتا ہو انظر آتا ہے اور پھر جس عمارت کا میں نے ذکر کیا ہے وہ جس طرح منٹوں میںمَیں نے اُٹھتی دیکھی اُس طرح گھنٹوں میں بھی ہمارے ملک میں کوئی عمارت کھڑی نہیں ہوتی۔مگر افسوس کہ اس دفعہ جو میں علاج کے لئے یورپ گیا اور انگلینڈ بھی گیا۔تو مجھے معلوم ہوا کہ انگلینڈ کے لوگوں میں سستی پیدا ہو چکی ہے اور وہ اُس چُستی سے کام نہیں کرتے جس چُستی سے وہ پہلے کیا کرتے تھے ہاں کہنے والے کہتے ہیں کہ امریکہ میں ابھی کچھ چستی موجود ہے۔پس غرباء کے حقوق نظر انداز کرنے کا نتیجہ دونوں کے حق میں بُرا نکل رہا ہے۔غرباء میں سستی اور نکمّے پن کی عادت پیدا ہو رہی ہے اور امراء اپنی تجارتوں اور صنعتوں اور کارخانوں اور زمینوں سے صحیح رنگ میں فائدہ اٹھانے سے محروم ہو رہے ہیں۔پس قومی ترقی کا یہ ایک نہایت اہم اصل ہے کہ غرباء کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔اور امراء اُن کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے اپنے اموال کا ایک حصہ خرچ کرتے رہیں۔اس طرح دنیوی طور پر بھی وہ ترقی کریں گے اور روحانی رنگ میں بھی اللہ تعالیٰ کی برکات اور اس کے انعامات حاصل کریں گے۔پھر مومن اس سے بھی آگے ترقی کرتے ہیں اور اُس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ اپنے سب سوراخوں کی حفاظت کرتے ہیں یعنی کانوں ، آنکھوں ، منہ اور اپنی شرمگاہوں کی بھی۔نہ غیبت سنتے ہیں نہ دوسروں کے اموال کو لالچ سے دیکھتے ہیں اور نہ بدکاری کرتے ہیں۔ہاں اپنی بیویوں سے تعلق رکھنا جائز ہے۔اسی طرح ایسی عورتوں سے جن کے اُن کے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔ایسے لوگوں پر مذہبی لحاظ سے کوئی ملامت نہیں۔’’داہنے ہاتھ مالک ہوئے‘‘ کی تشریح کے بارہ میں یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ بعض لوگ تو اس میں نوکرانیوں کو بھی شامل کر لیتے ہیں اور بعض اُن لونڈیوں کو بھی جو چھاپہ مار کر کسی کمزور قوم کے اندر سے زبردستی اغوا کر لی جاتی ہیں