تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 272
کرتے ایک دینار کہیں گر گیا تھا۔مجھے نما ز پڑھاتے ہوئے وہ یاد آیا تو میرا دل اس خیال سے بے چین ہو گیا کہ اگر میری موت آگئی اور غرباء کا یہ مال میرے گھر میں ہی پڑا رہا تو میں خدا تعالیٰ کو کیا جواب دوںگا۔اس لئے میں فوراً اندر گیا اور اسے بھی تقسیم کرنے کا حکم دے دیا۔(بخاری کتاب الزکاۃ باب من احب تعجیل الصدقۃ من یومہا) اسی طرح احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آپ کے پاس صدقہ کی کچھ کھجوریں آئیں۔حضرت امام حسنؓ جو اس وقت چھوٹے بچے تھے اور اُن کی عمر اُس وقت دو اڑہائی سال کی تھی انہوں نے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو آپ نے فوراً اُن کے منہ میں انگلی ڈال کر وہ کھجور نکال کر باہر پھینک دی اور فرمایا یہ ہمارا حق نہیں۔یہ خدا کے غریب بندوں کا حق ہے (بخاری کتاب الزکاة باب ما یذکر فی الصدقة للنبی صلی اللہ علیہ وسلم و آلہ)۔ایک دفعہ آپ کو معلوم ہوا کہ آپ کے ایک صحابی حضرت سعدؓ جو مالدار تھے وہ بعض دوسرے لوگوں پر اپنی فضیلت ظاہر کر رہے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تو فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں یہ مال اپنے زور بازو سے ملا ہے؟تمہاری طاقت اور دولت کا اصل ذریعہ غرباء ہی ہیں۔اس لئے فخر مت کرو اور غرباء کی تحقیر نہ کرو۔(بخاری کتاب الجھاد باب من استعان بالضعفاء و الصالحین فی الحرب)۔غرضهُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَمیں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ وہی لوگ کامیابی حاصل کیا کرتے ہیں جو غرباء کی ترقی کے لئے اپنے اموال خرچ کرتے رہتے ہیں اور اُن کے حقوق کو نظر انداز نہیں کرتے۔یورپ میں تو مزدوروں نے کمیٹیاں بنائی ہوئی ہیں وہ اپنے حقوق کے لئے جدو جہد کرتے رہتے ہیں لیکن ہمارے ہاں اوّل تو لوگ مزدور کو اس کے حق سے کم دیتے ہیں اور پھر جو کچھ دیتے ہیں وہ بھی وقت پر نہیں دیتے حالانکہ ہمارے مزدوروں کی کمیٹی آسمان پر بنی ہو ئی ہے اور وہ اُن کے حقوق کا تصفیہ کرتی ہے۔مگر اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رہا جس کی وجہ سے لوگ آسمانی کمیٹیوں کے فیصلہ کی تعمیل نہیں کرتے۔اگر خدا تعالیٰ چاہے تو احمدیت کے ذریعہ سے اس کی تعمیل ہونے لگ جائےگی مگر موجودہ زمانہ میں اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ نہ صرف مزدور طبقہ کی حق تلفی ہو رہی ہے بلکہ مالکوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے کیونکہ مالکوں کو مزدوروں سے ہی کام لینا پڑتا ہے اور جب ان کے حقوق ادا نہیں ہوتے تو وہ خوش دلی سے کام نہیں کرتے جس کا اثر اس کام پر بھی پڑتا ہے جو ان کے سپرد کیا جاتا ہے۔اور اس طرح مالک بھی مزدور کی حق تلفی کرکے اپنے آپ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔یورپ میں میں نے دیکھا ہے کہ کوئی شخص چلتا ہوا نظر نہیں آتا۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ سب لوگ دوڑ رہے ہیں۱۹۲۴ء میں جب میں یورپ گیا تو ایک دفعہ میں نے