تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 271
اُجرت ہوگی۔حالانکہ قرآنی تعلیم کے مطابق وہ لوگ بھی اُس کان میں حصّہ دار تھے۔پس مزدوری ادا کرنے کے بعد بھی وہ حق ملکیت جو مزدوروں کو حاصل تھا ادا نہیں ہوتا۔اُس کی ادائیگی کی ایک صورت یہ ہو سکتی تھی کہ اُن مزدوروں کو کچھ زائد رقم دے دی جاتی مگر اس طرح بھی اُن چند مزدوروں کا حق تو ادا ہو جاتا جو وہاں کام کر رہے ہیں لیکن باقی دنیا جو اس میں انہی کی طرح حصّہ دار تھی اپنا حق حاصل کرنے سے محروم رہ جاتی۔اس لئے اسلام نے یہ حکم دے دیا کہ ہر شخص لازماً اپنے اموال کا ایک حصّہ زکوٰۃ کے طور پر ادا کرے۔تاکہ حکومت اُسے تمام بنی نوع انسان کی ضروریات کے لئے مشترکہ طور پر خرچ کرے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر کان جو دریافت کی جائے اس کا ۱/۵حصہ حکومت کو ملے گا تاکہ اسے غرباء پرخرچ کیا جائے(بخاری کتاب الزکاة باب فی الرکاز الخمس)۔اس طرح بھی اسلام نے تمام بنی نوع انسان کا زمین میں جوحصہ ہے اُس کو محفوظ کر دیا ہے۔اسی طرح ایک زمیندار جو زمین میں سے اپنی روزی پیدا کرتا ہے گو اپنی محنت کا پھل کھاتا ہے مگر درحقیقت وہ اُس زمین سے فائدہ اُٹھا تا ہے جو تمام بنی نوع انسان کے لئے مشترکہ طورپر بنائی گئی تھی۔پس اُس کی آمد میں سے بھی ایک حصہ لازمی طورپر حکومت کو دلوایا جاتا ہے تاکہ تمام بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے اُسے خرچ کیا جائے۔یہی حال تجارت کا ہے۔تجارت کرنے والا بظاہر اپنے مال سے تجارت کرتا ہے لیکن اُس کی تجارت ملکی امن کے بغیر کبھی نہیں چل سکتی اور امن کے قیام میں ملک کا ہر شخص حصہ دار ہوتا ہے۔پس اس کا حق دلانے کے لئے تجارتی اموال پر بھی اسلام نے زکوٰۃ مقرر کردی تاکہ ان اموال میں جو دوسرے لوگوں کے حق شامل ہیں وہ ادا ہو جائیں اور حکومت ایسے تمام روپیہ کو بنی نوع انسان سے تعلق رکھنے والے مشترکہ امور کی تکمیل اور اُن کی سرانجام دہی کے لئے خرچ کرے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غرباء کی تکالیف کا اتنا احساس رہتا تھا کہ احادیث میں آتا ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی کثرت کے ساتھ غرباء میں صدقات تقسیم فرماتے کہ اُسے اگر ایک تیز ہوا سے مشابہت دی جائے تو یہ بھی ایک ناقص مشابہت ہوگی(بخاری کتاب الصوم باب اجود ما کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یکون فی رمضان)۔اسی طرح ایک دفعہ کچھ اموال آئے جن کو آپ نے غرباء میں تقسیم فرما دیا مگر ایک دینار کہیں غلطی سے رہ گیا اور وہ تقسیم نہ ہو سکارسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے کہ اچانک آپ کو وہ دینار یاد آگیا۔جب آپ نے نماز ختم کر لی تو بجائے اس کے کہ آپ بیٹھ کر صحابہؓ سے گفتگو فرماتے آپ جلدی جلدی اندر تشریف لے گئے۔صحابہؓ کہتے ہیں کہ اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسا اضطراب پایا جاتا تھا کہ آپ ہماری گردنوں پر سے کودتے ہوئے اندر تشریف لے گئے۔جب واپس آئے تو آپ نے فرمایا کہ اموال تقسیم کرتے