تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 262
اُس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کی اور جب زَکّٰی نَفْسَہٗ کہیں تو معنے ہوںگے کہ مَدَحَھَا اپنے نفس کو اُس نے تعریف کے قابل بنایا۔پس اَلزَّ کٰوۃ کے معنے ہیں (۱) صَفْوَۃُ الشَّیْءِ۔اعلیٰ درجہ کی چیز (۲) طَاعَۃُاللہِ اللہ کی اطاعت (۳) مَا اَخْرَجْتَہٗ مِنْ مَالِکَ لِتُطَھِّرَہُ بِہٖ۔مال کا وہ حصہ جو بطور زکوٰۃنکالا جاتا ہے تاکہ باقی مال پاک ہو جائے اور صدقہ کا نام اس لئے زکوٰۃ رکھا گیا ہے کہ زکوٰۃ مال میں برکت ڈالتی اور اُسے بڑھاتی ہے اور انسان کو آفات سے بچاتی ہے۔(اقرب) اَلْفِرْدَوْسَ۔اَلْفِرْدَوْسُ فردوس کے معنے ہیں اَلْجَنَّۃُ الَّتِیْ تُنْبِتُ ضُرُوْبًا مِنْ النَّبْتِ۔وہ باغ جو کئی قسم کی نباتات اُگاتا ہے۔اَلْبُسْتَانُ یَجْمَعُ کُلَّ مَایَکُوْنُ فِی الْبَسَاتِیْنِ۔وہ باغ جس میں تمام وہ اشیاء ہوں جو باغوں میں ہو سکتی ہیں۔( اقرب) تفسیر۔ان آیات میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ جن مسلمانوں میں یہ اوصاف پائے جائیں گے کہ وہ خدا تعالیٰ کی عبادت ظاہر داری سے نہیں کریں گے بلکہ دلی خشوع اور انتہائی عجزو انکسار اور پوری فروتنی کے ساتھ اُس کی یاد میں مشغول رہیں گے اور ایسے تما م کاموں سے بچیں گے جن سے اُن کی ذات یا قوم یا ملک کو کوئی فائدہ نہ پہنچتا ہواور اپنے ملک کی ترقی کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کرنے کے لئے تیار رہیں گے اور اپنے اُن تمام راستوں کو بند کریں گے جن کے ذریعہ سے خرابیاں انسانی قلب میں داخل ہو تی ہیں۔بالخصوص وہ اپنی عصمت کی حفاظت کریں گے اور سوائے جائز ذرائع کے اور کسی طرح اپنی عفت پر حرف نہیں آنے دیں گے اور جو اُن ذمہ داریوں کو پورا کریں گے جو اُن کے سپر د کی جائیں گی اور جو معاہدے وہ دوسری قوموں سے کریں گےاُن کو توڑیں گے نہیںاور جو انفرادیت کو ملت کے تابع کردیں گے اور قومیت کا جذبہ اُبھاریں گے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی تائید اُن کو حاصل ہوگی۔یہ ایک زبردست صداقت ہے جس سے شیعیت کاردّ ہوتا ہے۔کیونکہ شیعہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نعوذ باللہ صرف اڑھائی مومن تھے۔ایک حضرت علی کرم اللہ وجہہ۔ایک اُن کا غلام اور آدھے مومن سلمان فارسی ؓ تھے لیکن اوّل تو یہ بات اس لحاظ سے غلط ہے کہ ہر مذہب کی خوبی اس کے ثمرات سے ہی پہچانی جاتی ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام اسی اصل کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ ہر ایک اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہےاور بُرا درخت بُرا پھل لاتا ہے۔اچھا درخت بُرا پھل نہیں لا سکتا۔نہ بُرا درخت اچھا پھل لا سکتا ہے۔جودرخت اچھا پھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔پس اُن کے پھلوں سے تم انہیں پہچان لو گے۔‘‘ (متی باب ۷آیت ۱۷ تا ۲۰)