تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 261

فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۱۲ وہ اس میں ہمیشہ رہتے چلے جائیں گے۔حلّ لُغَات۔اَفْلَحَ۔اَفْلَحَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں فَازَ وَظَفِرَ بِمَاطَلَبَ انسان اپنے ارادے میں کامیاب ہو گیا۔اور اُس نے اپنے مقصد کو پالیااوراَفْلَحَ زَیْدٌ کے معنے ہیں نَجَحَ فِیْ سَعْیِہٖ وَاَصَابَ فِیْ عَمَلِہٖ۔زید نے اپنی کوشش کے پھل کو پالیا اور اُس کی محنت بار آور ہوئی۔( اقرب ) اَلْفَلَاحُ۔اَلْفَلَاحُ : اَلظَّفَرُ وَ اِدْرَاکُ بُغْیَۃٍ۔یعنی فلاح کے معنے کسی کام میں کامیابی اور مقصود کو پالینے کے ہیں ( مفردات ) پس اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ کے معنے ہیں کہ کامل مومن اپنی مراد کو پہنچ گئے اور انہوں نے اپنے مقصد کو حاصل کر لیا۔اَللَّغْوَ۔اَللَّغْوُ لغو کے معنے ہیں مَالَا یُعْتَدُّبِہٖ مِنْ کَلَامٍ وَغَیْرِہٖ۔ہر ایسا کلام یا فعل جو کسی توجہ کے قابل نہ ہو ( اقرب) وَقَدْیُسَمّٰی کُلُّ کَلَامٍ قَبِیْحٍ لَغْوًا۔اسی طرح ہر بُری اور ناپسندیدہ بات کو بھی لغو کہتے ہیں۔( مفردات) اَلْخَاشِعُوْنَ۔خَاشِعُوْنَ خَاشِعٌکی جمع ہے جو خَشَعَ سے اسم فاعل ہے اور خَشَعَ لَہٗ کے معنے ہیں ذَلَّ وَ تَطَاْ مَنَ۔فرمانبردار ہوگیا اور عاجزی کا اظہار کیا۔اور خَشَعَ بِبَصَرِہٖ کے معنے ہیں غَضَّہٗ آنکھ نیچے کر لی۔نہایۃ میں لکھا ہے کہ اَلْخُشُوْعُ فِی الصَّوْتِ وَالْبَصَرِ کَالخُضُوْعِ فِی الْبَدَنِ جس طرح بدن کا تعجز اور اُس کی کمزوری ظاہر کرنے کے لئے خضوع کا لفظ بولا جاتا ہے اسی طرح آواز کے کمزور ہونے اور آنکھ کے عجز کو ظاہر کرنے کے لئے خشوع کا لفظ استعمال ہوتا ہے ( اقرب) مفردات میں ہے۔اَلْخُشُوْعُ:اَلضَّرَاعَۃُ۔خشوع کے معنے عاجزی کرنے کے ہوتے ہیں اور خشوع کا استعمال بالعموم اس عاجزی پر ہوتا ہے جو اعضاء سے ظاہر ہوتی ہے اور تضرع کا لفظ دل میں عاجزی پیدا ہو جانے کے متعلق بولا جاتا ہے ( مفردات ) پس خٰشِعُوْنَ کے معنے ہوںگے۔عاجزی اور فروتنی اختیار کرنے والے۔الزَّکوٰۃ۔الزَّ کٰوۃ زَکَا (یَزْکُوْا) تَزْکِیَۃً کا اسم ہے اور زَکَی الشَّیْءُ کے معنے ہیں نَمَا کوئی چیز زیادہ اور بکثرت ہوگئی۔کہتے ہیں زَکَا الرَّجُلُ : صَلَحَ وَ تَنَعَّمَ وَکَانَ فَیْ خِصْبٍ۔کوئی شخص عمدہ حالت میں ہوگیا (کیونکہ زَکَتِ الْاَرْضُ اُس وقت بولتے ہیں جبکہ وہ سرسبز ہو جائے ) اور جب زَکَّاہُ اللہُ کہیں تو اس کے معنے ہوںگے اَنْمَاہُ۔اللہ تعالیٰ نے اس کو پروان چڑھایا۔طَھَّرَہٗ اُسے پاکیزہ کیا۔زَکّٰی فُلَانٌ مَالَہٗ کے معنے ہوتے ہیں اَدَّی عَنْہُ زَکٰوتَہُ۔