تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 263

اب اگر ایک شخص دنیا کی اصلاح اور اس کے درست کرنے کے لئے مامور ہو نے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس کی سب کوششیں اکارت چلی جاتی ہیں اور وہ ایک ایسی جماعت چھوڑ جاتا ہے جو بے دین اور منافق اور خدا سے دور ہو۔اور جس میں صرف اڑھائی مومن پائے جاتے ہوں تو یقیناً اس کا دعویٰ سچا نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ ایک کام کے لئے بھیجے اور پھر وہ اس کام میں ناکام ہو جائے۔اُس کی کامیابی اُسی صورت میں سمجھی جا سکتی ہے جب اس کی تربیت یافتہ اور اس کی صحبت سے مستفیض ہونے والی جماعت کا بیشتر حصہ اُس کے اثر سے متاثر ہو۔اور اس کی تعلیم کا حامل اور اُس پر پوری طرح عامل ہو۔ورنہ اُس کی آمد بالکل فضول اور اُس کی بعثت بالکل عبث ہو جاتی ہے۔اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ کوئی نیک اور پاک جماعت تدریجی مراحل طے کئے بغیر اچانک شرارت اور فتنہ کا مجسم نمونہ بن جائے۔پس جو مذہب یہ بتاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ اور اُن کے بعد خدمتِ اسلام کرنے والے لوگ درحقیقت منافقوں کی ایک جماعت تھے اور اسلام صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دم تک تھا یا آپ کے بعد آپ کے چند رشتہ داروں کے دلوں میں اس کاا ثر محدود ہو کر رہ گیا وہ یا تو قانونِ قدرت اور انبیاء کی شان سے بالکل نا واقف ہے یا پھر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا درپردہ مخالف ہے کہ آپ کو ناکام ثابت کرنا چاہتا ہے۔اور اسلام کو ایک بے ثمر درخت اور اس کی تعلیم کو ایک بے اثر تعلیم بتا کر دشمنوں کو خوش کرنا اور اسلام کی وقعت کو گرانا چاہتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بڑے گناہوں میں سے ایک یہ بھی گناہ ہے کہ انسان اپنے ماں باپ کو گالی دے۔لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا کوئی ایسا بدبخت بھی ہو سکتا ہے جو اپنے ماں باپ کو گالیاں دے۔آپ نے فرمایا ہاں جب وہ کسی کے ماں باپ کو گالیاں دیتا ہے اور دوسرا اُس کے جواب میں اُسکے ماں باپ کو گالیاں دیتا ہے تو درحقیقت یہی شخص اپنے ماں باپ کو گالیاں دلوانے والا ہوتا ہے(صحیح بخاری کتاب الادب ،باب لا یسب الرجل والدیہ)۔اسی طرح جن لوگوں کو کوئی قوم اپنے روحانی ہادیوں میں سے سمجھتی ہو۔اُن کی عزت وہ اپنے ماں باپ سے بھی زیادہ کرتی ہے۔پس اُن کی نسبت اگر کوئی قوم یہ الفاظ استعمال کرتی ہے کہ وہ منافق اور بے ایمان تھے تو درحقیقت وہ اپنے بزرگوں کو گالیاں دیتی ہے اور یہ ایک خطرناک جرم ہے۔جس سے افتراق اور اختلاف کی خلیج وسیع ہو جاتی ہے۔پس اوّل تو یہ کہناکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں میں سے صرف اڑھائی مومن تھے باقی تمام لوگ نعوذ باللہ منافق اور بے ایمان تھے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسیہ اور آپ کے اعلیٰ درجہ کے روحانی کمالات پر اعتراض کرنا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے آپ کو انبیاء کا سردار قرار دیتے ہیں اور قرآن کریم سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔لیکن ایسا کہنے والے تو حضرت موسیٰ ؑ اور