تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 255

جس طرح انسانی زندگی کے لئے بہت سی آرام اور ترقی دینے والی اشیاء پیدا کی ہیں اسی طرح اُس نے روحانی زندگی کے لئے بھی مختلف قسم کی چیزیں پیدا کی ہیں۔جو شخص جسمانی راحت دینے والی چیزوں کو اختیار کرتاہے اور روحانی راحت دینے والی چیزوں کو اختیار نہیں کرتا اور اُن کو لعنت سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے وہ عقلمند نہیں بیوقوف ہے۔( آیت ۲۰ تا ۲۳) اس کے آگے حضرت نوح ؑ کی مثال بیان فرماتا ہے کہ وہ بھی اپنے زمانہ میں فلاح کا رستہ دکھانے کے لئے آئے تھے اور انہوں نے بھی یہی تعلیم دی تھی کہ خدا ایک ہے دو نہیں ہیں۔لیکن اُن کی قوم نے انکارکیا اورمحض اس لئے انکار کیا کہ وہ ایک انسان ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں (لیکن پہلوں نے تو اس لئے نبیوں کا انکار کیا کہ کیوں ایک انسان اُن میں نازل ہوا۔اور مسیح ؑ کے بعد لوگوں نے اس لئے ایک نبی کا انکار کیا کہ خدا کا بیٹا اُن میں آچکا ہے اس لئے انہیں کسی انسان کی ضرورت نہیں ہے۔حالانکہ ماننے کے قابل وہی بات ہے جو خدا کی طرف سے آئے خواہ وہ خدا کے لقب سے آئے یا خدا کے بیٹے کے لقب سے آئے یا نبی کے لقب سے آئے۔بھیڑیں تو اپنے گڈریے کی آواز کو پہچانتی ہیں خواہ وہ گڈریا مشرق سے بولے یا مغرب سے بولے۔شمال سے بولے یا جنوب سے بولے ہمارا گڈریا ہمارا خدا ہے وہ جس وجود میں بھی ہم کو آواز دے ہمارا فرض ہے کہ ہم اُس کی سنیں )فرماتا ہے۔مخالف کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو وہ ہمارے اندر ملائکہ نازل کر دیتا۔یعنی ہم انسان کی بات سننے کے لئے تیار نہیں۔انسان سے اوپر کوئی اور وجود ہونا چاہیے ( اگر مسیحیوں کا دعویٰ سچاہے تو پھر ان لوگوں کا اعتراض کیوں جھوٹا ہے ) ہم نے تو اس قسم کا دعویٰ اپنے پہلوں سے کبھی سُنا نہیں تھا۔(مسیح ؑ سے پہلے لوگوں نے کہا کہ ہم نے اس قسم کا دعویٰ پہلے کبھی نہیں سنا کہ کوئی انسان دوسرے انسانوں سے بڑا بننا چاہےاور مسیح کے وقت لوگوں نے کہا کہ ہم نے کسی انسان سے نہیں سُنا کہ وہ خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرےاور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں نے کہا کہ ہم نے کسی سے نہیں سنا کہ بنی اسرائیل سے باہر بھی کوئی نبی آسکتا ہے۔افسوس ہمیشہ ہی انسان عذرلنگ تلاش کرتا رہا اور اُس نے کبھی بھی خدا کی آواز پر لبیک کہنے کی کوشش نہیں کی )اس شخص کو تو کوئی جنون معلوم ہوتا ہے۔کچھ دن ٹھہرو نتیجہ نکل آئےگا۔تب نوح ؑ نے اپنے خدا سے مدد مانگی اور خدا نے اُسے کہا کہ تو ہمارے حکم اور ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی تیار کر(یعنی ایک کامل تعلیم جو اس زمانہ کے لوگوں کے لئے نجات کا موجب ہو )پھر جب مخالفت بڑھتی جائے اور عذاب کا وقت آجائے تو ہر قسم کے لوگوں کو اس کشتی کے ذریعہ سے تو پناہ دے اور اپنے اہل کو بھی اُس کے ذریعہ سے بچا۔سوائے اس کے جس کے لئے خدا کی طرف سے عذاب کا حکم ہو چکا ہو۔جب تو اُس کشتی میں سوار ہو جائے تو دعاکیجئیوکہ خدایا ! تیرا شکر ہے کہ تو نے ہم کو ظالموں سے نجات دی اب تو ہمیں کسی اچھی جگہ پر