تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 254
کے وارث ہوںگے۔یہ روحانی تخلیق ہے جو بالکل جسمانی تخلیق کے متوازی ہے۔انسان کی جسمانی تخلیق بھی اسی طرح ہوئی ہے۔انسان کو ہم نے مٹی سے نکلے ہوئے ایک خلاصہ سے پیدا کیا ہے (یعنی اُن خوراکوں سے جو زمین سے پیدا ہوتی ہیں)پھر ہم نے اس کو نطفہ کی شکل میں تبدیل کر دیا۔اور وہ نطفہ ایک ایسی جگہ پر ٹکاجہاں اُس کے لئے نشوونما کا موقع تھا۔پھر ہم نے اُس نطفہ کو ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں بدل دیا۔پھر اُس جمے ہوئے خون سے ہم نے گوشت کی بوٹی تیا ر کی۔پھر ہم نے اس بوٹی کے ساتھ ہڈیاں بنائیں۔پھر اُن ہڈیوں پر ہم نے گوشت چڑھایا۔اس کے بعد وہ پیدائش ایک نئی چیز بن گئی۔یعنی انسان کی شکل اختیار کر گئی۔(آیت ۳ تا۱۵) پھر فرماتا ہے کہ جس طرح تم جسمانی پیدائش کے بعد مر جاتے ہو اور پھر قیامت کے دن تم کو اُٹھایا جائےگا اسی طرح روحانی پیدائش میں بھی تم پر یہ بات آتی رہتی ہے کہ قومیں پیدا ہوتی ہیں اور مر جاتی ہیں اور پھر اُن کی جگہ دوسری قومیں کھڑی ہو جاتی ہیں۔( آیت ۱۶۔۱۷) پھر فرماتا ہے کہ ہم نے تمہاری جسمانی اور روحانی ترقیات کو سات حصوں میں تقسیم کیا ہے( چنانچہ پہلی آیات میں جسمانی پیدائش کو بھی سات حصوں میں تقسیم کیا ہے اور روحانی پیدائش کو بھی سات حصوں میں تقسیم کیا ہے ) اورہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں۔( آیت ۱۸) اور ہم نے آسمان سے اندازے کے مطابق پانی اتارا ہے ،پھر ہم اس کو زمین میں قائم رکھتے ہیں۔(یعنی جسمانی پانی بھی اندازے کے مطابق اترتا ہے اور روحانی پانی بھی اندازے کے مطابق اترتا ہے ) اور ہم اس کے ضائع کر دینے پر قادر ہیں یعنی محض کسی تعلیم کا خدائی ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہوتا کہ وہ کبھی خراب نہیں ہوگی۔( آیت ۱۹) اور ہم نے تمہارے لئے باغات بنائے ہیں۔کھجور کے بھی اور انگوروں کے بھی۔اور اُن میں تمہارے لئے بہت سے پھل پیدا کئے ہیں جن کو تم کھاتے ہو اورزیتون کا وہ درخت بھی ہم نے بنایا ہے جو طورِ سینا سے نکلتا ہے۔جس میں سے تیل بھی پیدا ہوتا ہے اور کھانے والوں کے لئے سامان بھی تیار ہوتے ہیں ( اس کا ذکر سورۂ نور کی آیت نمبر۳۶ میں کیا گیا ہے ) اور ہم نے تمہارے لئے چارپائے بنائے ہیں وہ بھی تمہارے لئے ایک نشان ہیں۔اُن کے پیٹوں میں سے نکلی ہوئی چیز یعنی دودھ کو تم پیتے ہو۔اس کے علاوہ بھی تمہارے لئے ان میں بہت سے منافع ہیں اور تم اُن کا گوشت بھی کھاتے ہو۔اور تم اُن جانوروں پر بھی اورکشتیوں پر بھی سواریاں کرتے ہو۔یعنی اللہ تعالیٰ نے