تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 256
اتار۔جہاں ان ظالموں کے ظلم سے ہم محفوظ رہیں۔اگر لوگ غور کریں تو نوح ؑ کی زندگی میں ایک بڑا نشان ہے۔(آیت ۲۴ تا ۳۱) اس کے بعد نسلِ انسانی چلتی چلی گئی۔کچھ زمانہ تک تو لوگ ہدایت پر قائم رہے پھر بگڑ گئے اور پھر ہم نے اُن میں سے ہی ایک رسول اُن میں بھجوایا ( رسول کا اسی قوم میں سے آنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ کسی غیر جنس میں سے ہو جیسا کہ مسیحیت کا دعویٰ ہے تو وہ ہمارے لئے نمونہ نہیں بن سکتا۔ایک انسان شیر والے کام نہیں کر سکتا اور ایک شیر انسان والے کام نہیں کرسکتا۔انسان کا بچہ خدا کے بچہ کی نقل نہیں کرسکتا۔اور خدا کا بچہ کہلانے والا یعنی مسیح ؑ یا عزیر انسان کے بچہ کی مشکلات کو نہیں سمجھ سکتا)اُس رسول نے ان کو حکم دیا کہ ایک خدا کے سوا کسی کی پرستش نہ کرو(نوح ؑ کے بعد آنےوالے رسولوں نے بھی صرف ایک خدا کی خبر دی دو کی نہیں ) اس کی قوم کے سرداروں نے جو کہ مابعد الموت زندگی کے منکر تھے اور دنیوی اموال پرخوش تھے اپنی قوم سے اس کے بارہ میں کہا ارے لوگو! یہ تو تمہارے جیسا ایک انسان ہے جو کچھ تم کھاتے ہو وہی کچھ یہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو وہی کچھ یہ پیتا ہے۔اگر تم ایسے آدمی کی اطاعت کرو گے تو نقصان اٹھائو گے۔یہ تو کہتا ہے کہ تم مر کر پھر جی اٹھو گے۔ہم تو اسی دنیا میں مریںگے اور جئیں گے۔مرنے کے بعد کوئی اور زندگی ہم کو نہیں ملے گی۔یہ شخص جھوٹا ہے (یہی وہ خرابی ہے جو ہمیشہ ہی دنیا کے لوگوں کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی سے پھرا دیتی ہے )تب نبی نے دُعا کی کہ اے میرے رب! انہوں نے تو میرا انکار کر دیا ہے اب تو ہی میری مدد کر۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جلد ہی اپنے کئے پر شرمندہ ہوںگے اور ان کو عذاب نے پکڑ لیا اور وہ تباہ ہوگئے۔(آیت ۳۲ تا ۴۲) اس کے بعد پھر کچھ لوگ گذرے۔اور ہم نے پے در پے اُن کے اندر رسول بھیجنے شروع کرد ئیے مگر جس قوم کے پاس بھی رسول آیا اُس نے انکار کیا اور ہم نے بھی قوم کے بعد قوم کو ہلاک کرنا شروع کر دیا۔( آیت ۴۳ تا ۴۵) ان سب واقعات کے بعد موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون آئے اُن کے ساتھ بھی ہمارے نشان اور دلائل تھے لیکن فرعون اور اس کے ساتھیوں نے تکبر سے کا م لیا اور پہلے لوگوں کی طرح یہی کہا کہ کیا ہم ان دو آدمیوں کو مان لیں جو ہمارے جیسے ہیں حالانکہ ان کی قوم ہماری غلام ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بھی ہلاک ہوگئے اور موسیٰ کو ہم نے ایک تفصیلی شریعت دی تاکہ لوگ اُس سے صحیح راستہ دیکھیں اور پھر ہم نے مریم کے بیٹے اور اُس کی ماں کو ایک نشان بنا کے بھیجا۔اور اُن دونوں کو ہم نے ایک ایسی بلند جگہ پر پناہ دی جو رہنے کے لئے بھی بڑی اچھی تھی اور اُس میں پانی بہتے تھے (یعنی کشمیر کا علاقہ )۔(آیت ۴۶ تا ۵۱)