تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 253

کامیاب ہو جائو گے اور خدا تعالیٰ کی مدد حاصل کروگے۔سورۃ المومنون میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں میں ایسی جماعت پیدا ہوگی اور وہ جماعت ضرور کامیاب ہو جائےگی۔گویاجو بات پہلے فرضی طور پر تسلیم کی گئی تھی اب اُس کے واقعہ ہوجانے کادعویٰ کیاہے۔یہ سورۃ درحقیقت گریز ہے پہلی سورتوں کے مضمون سے۔پہلی سورتوں میں مسیحیت کی تعلیم اور اُس کی غلطیوں اور اس کی اصلاح کا ذکر تھا۔اس سورۃ میں بھی مسیحیت کی تعلیم کا ہی ردّ ہے لیکن ساتھ ہی اس امر کی طرف بھی زوردار اشارہ کیا گیا ہے کہ مسیحیت کی جگہ اب ا سلام نے لے لی ہے۔اور اس کی غلطیوں اور کمزوریوں کی اصلاح کرکے اب اسلام انسانوں کو کامیابی کی منزلیں طے کرائے گا جبکہ مسیحیت جاوۂ توحید سے ہٹ جانے کی وجہ سے اب وہ آسمانی ثمرات نہیں کھلا سکے گی جو اس کے ذریعے سے انسان پہلے زمانہ میں کھایا کرتا تھاکیونکہ خدا تعالیٰ انسانوں سے اُس ایمان کے مطابق سلوک کرتا ہے جو ان کے دل میں ہوتا ہے یا جس پر اُن کا عمل ہو۔نہ اس کے مطابق جس کا وہ زبانی دعویٰ کرتے ہوں۔خلاصہ مضمون اس سورۃ میں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کریم پر ایمان لانے والے لوگوں کی کامیابی کا وقت قریب آگیا ہے۔(آیت ۱،۲) ان سچے مومنوں کی علامتیں یہ ہوںگی کہ (۱) وہ خدا تعالیٰ کی عبادت ظاہر داری سے نہیں کریں گے۔(۲) وہ ایسے تمام کاموں سے بچیں گے جن سے اُن کی ذات یا قوم یا ملک کو کوئی فائدہ نہ پہنچتا ہو۔(۳) وہ اپنے ملک کی ترقی کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کرنے کے لئے تیار رہیں گے۔(۴) وہ اپنے ان تمام راستوں کو بند کریں گے جن کے ذریعہ سے خرابیاں انسانی قلب میں داخل ہوتی ہیں۔خصوصًا وہ اپنی عصمت کی حفاظت کریں گے۔سوائے آزاد بیویوں یا مملوکہ بیویوں کے۔ایسی صورت میں اُن پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔(۵) جو ذمہ داریاں اُن کے سپرد کی جائیں گی اُن کو وہ پورا کریں گے اور جو معاہدے وہ دوسری قوموں سے کریں گے اُن کو وہ توڑیں گے نہیں۔(۶) وہ اجتماعی عبادتوں کی خاص طور پر حفاظت کریں گے یعنی ملت یا قومیت کاجذبہ اُبھاریں گے اور انفرادیت کو ملت کے تابع کر دیں گے۔ایسے لوگ اُن انعامات کے وارث ہوںگے جن کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے اور وہ اسی دنیا میں وہ جنتیں پالیں گے جن کی مومنوں کو خبر دی گئی ہے۔اور ہمیشہ ہمیش کے لئے خدا تعالیٰ کے انعاموں