تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 246

چاہتا ہے کہ وہ تمہارے لئے تمام مسائل کو خوب کھول کھو ل کربیان کر دے اور تمہیں بتادے کہ تم فلاں کام کرو گے تو فائدہ اٹھائو گے اور فلاں کرو گے تو نقصان اٹھائو گے۔پھر فرماتا ہے تم سے پہلے بھی کچھ قومیں گذری ہیں اُن میں سے بعض نے اپنے اعمال کی وجہ سے سکھ پایا تھا اور بعض نے دُکھ۔خدا چاہتا ہے کہ اُن کی باتیں بھی تمہیں کھو ل کھول کر سنا دے اور ان لوگوں کا راستہ بھی بتا دے جو ہلاکتوں سے بچ گئے تھے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اُن کے حالات کو اچھی طرح جاننے والا اور ہر کام کی حکمت کو سمجھنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم پر شریعت کے ذریعہ اپنی رحمت کو کامل کرے مگر وہ لوگ جو اپنی خواہشاہت کی پیروی کرنےوالے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم ایک ہی طرف سارے کے سارے جھک جائو۔یعنی اعتدال اور میانہ روی کو ترک کر دو اور ایک ہی پہلو کو اختیار کرلو۔پھر فرما تا ہے۔يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِيْفًا (النساء:۲۹) اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمہارے بوجھوں کو ہلکا کر دے کیونکہ انسان فطرتی طور پر سخت کمزور پیدا کیا گیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ اگر اسے کوئی ہدایت نامہ نہ دیا گیا تو وہ سخت نقصان اٹھائےگا۔پس شریعت کی غرض انسان کے بوجھوں کو کم کرنا اور اُسے ہر قسم کے خطرات اور مصائب سے بچانا ہے۔اور یہی بات اللہ تعالیٰ نےوَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍمیں بیان فرمائی ہے کہ یہ دین جو تمہارے لئے نازل کیا گیا ہے اس میں کوئی بھی حکم ایسا نہیں جو تمہیں کسی مشکل میں مبتلا کر دے۔چھوٹے سے چھوٹے حکم سے لےکر بڑے سے بڑے حکم تک کو دیکھ لو۔ہر حکم انسان کے لئے برکت اور رحمت کا باعث ہے۔پھر فرماتا ہے۔مِلَّةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ یہ تمہارے دادا ابراہیم ؑ والادین ہی ہے کوئی نیا دین نہیں کہ اس کا اختیار کرنا تم پر دو بھر ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہهُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِيْ هٰذَا۔اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ سے پہلے اور اس کتاب میں بھی تمہارا نام مسلم رکھا ہے۔لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ تا کہ محمد رسول اللہؐ اپنے عمل سے تم پر گواہی دیں کہ وہ موعود ابراہیم ؑ اور موعود انبیاء سابقین ہیں۔وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ اور تم بھی دوسری قوموں کے لئے ہمیشہ اس بات کے گواہ بنتے چلے جائو کہ تم ہی اس نئے نام کے مصداق ہو۔جس کی صُحفِ سابقہ میں خبر دی جا چکی ہے۔اس آیت میں هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ کے الفاظ میں جس پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔وہ یسعیاہ نبی کی کتاب میں ان الفاظ میں پائی جاتی ہے کہ ’’ تو ایک نئے نام سے کہلایا جائےگا جو خداوند کا مُنہ تجھے رکھ دےگا۔‘‘( یسعیاہ باب ۶۲ آیت ۲) اسی طرح انہوں نے فرمایا تھا