تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 245
ہیں۔اِمْتَنَعَ بِلُطْفِہٖ مِنَ الْمَعْصِیَۃِ۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کے کرم سے معصیت سے پنا ہ میں آگیا۔اور جب اِعْتَصَمَ فُلَانٌ مِنَ الشَّرِّ وَالْمَکْرُوْہِ کہیں تو معنے ہوں گے اِلْتَجَأَ وَامْتَنَعَ۔اُس نے معصیت سے بچنے کے لئے پناہ چاہی ( اقرب) پس اِعْتَصِمُوْا کے معنے ہوںگے گناہ سے بچنے اور مصائب سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہو۔تفسیر۔فرماتا ہے۔صرف مُنہ کے ایمان پر کفایت نہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں پوری طرح عملًا کوشش کرتے رہو۔کیونکہ اُس نے تم کواس وقت دین کے معاملہ میں باقی قوموں میں سے چُن لیا ہے اور دین بھی تم کو وہ دیا ہے جس میں کوئی تنگی نہیں بلکہ وہ صراط مستقیم کے پانے میں مدد گار ہے کوئی ناقابلِ برداشت بوجھ نہیں۔مفسرین نے وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ پربحث کی ہے کہ اس سے مراد کیا ہے کہ اُس نے دین کے بارے میں تم پر کوئی تنگی نازل نہیں کی اور انہوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد قصرِ صلٰوۃ ہے یعنی اسلام اجازت دیتا ہے کہ سفر میں انسان نماز قصر کر لے بعض کہتے ہیں کہ اس سے کثرت ازدواج اور مسافر کے لئے روزہ کی رخصت کی طرف اشارہ ہے۔بعض کہتے ہیں اس میں بیمار کے لئے بیٹھ کر نماز پڑھنے اور ناقابل پر جہاد فرض نہ ہونے کی طرف اشارہ ہے۔(تفسیر قرطبی زیر آیت ھٰذا)یہ سب باتیں اپنی اپنی جگہ درست ہو سکتی ہیں۔لیکن یادرکھنا چاہیے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے مِنْ حَرَجٍ فرمایا ہے یعنی اُس نے کسی قسم کی کوئی تنگی نہیں رکھی۔پس اس میں کسی ایک قسم کی تنگی کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا بلکہ ساری قسم کی تنگیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اور اصل مضمون جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ شریعت اس لئے نازل نہیں ہوئی کہ وہ انسان پر بوجھ ڈالے بلکہ شریعت لوگوں کے بوجھوں کو ہلکا کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے عیسائیوں نے غلطی سے یہ کہہ دیا کہ شریعت لعنت ہے۔(گلتیوں باب ۳ آیت ۳۱)حالانکہ شریعت تو ایک ہدایت نامہ کے طور پر ہوتی ہے اور نبی ہادی اور راہنما ہوتا ہے۔اب کوئی احمق ہی ہوگا جو کسی ہدایت نامہ کو لعنت قرار دے یا طب کی کتابوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے کہ فلاں چیز زہر ہے اور اگر فلاں زہر کوئی شخص کھا لے تو اُس کا یہ یہ تریا ق ہے۔اب کون شخص ہے جو ایسی کتابوں کو لعنت قرار دے سکے۔ایسی کتابیں ہمیشہ سکھ اور آرام کا موجب ہوا کرتی ہیں نہ کہ تکلیف کا۔اسی طرح شریعت میں روحانی اور جسمانی آفات سے بچنے کے طریق بتائے جاتے ہیں اور جو مصائب آچکے ہوں اُن کو دُور کرنے کی تدابیر سمجھائی جاتی ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَ يَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ يَتُوْبَ عَلَيْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔وَ اللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْكُمْ١۫ وَ يُرِيْدُ الَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِيْلُوْا مَيْلًا عَظِيْمًا ( النساء :۲۷ تا ۲۸) یعنی اللہ تعالیٰ