تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 247
’’ تم اپنا نام اپنے پیچھے چھوڑو گے جو میرے برگزیدوں پر لعنت کا باعث ہوگا کیونکہ خداوند یہوداہ تم کو قتل کر ے گا اور اپنے بندوں کو دوسرے نام سے بُلائےگا۔‘‘ ( یسعیاہ باب ۶۵ آیت ۱۵) یسعیاہ نبی کی اس پیشگوئی کو بائیبل نویسوں نے کلیسیا پر چسپاں کرنے کی کوشش کی ہے۔(THE OLD TESTAMENT WITH A BRIEF COMENTARY UNDERWORD 'ISAIAH')حالانکہ مسیحیوں کو کوئی نام خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ملا۔اسی طرح مختلف مسیحی فرقوں نے جو اپنے اپنے نام رکھے ہوئے ہیں وہ بھی اُن کے اپنے تجویز کردہ ہیں۔خدا تعالیٰ نے اُن کے یہ نام نہیں رکھے۔ساری دنیا میں صرف ایک ہی قوم ہے جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے نام ملا اور وہ مسلمان ہیں۔هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ میں اسی پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اور فِيْ ھٰذَا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قرآنی دعا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو حضر ت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ میں کی کہ رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ (البقرۃ:۱۲۹) یعنی اے ہمارے رب مجھ ابراہیم کو اور میرے بیٹے اسمٰعیل ؑ کو اپنے حضور میں مسلم قرار دے۔اسی طرح ہماری اولاد میں سے بھی ایک بڑی جماعت پیدا کر جو تیرے حضور میں مسلم کہلائے۔چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پیشگوئیوں کے مطابق دنیا میں اعلان فرما دیا کہ خدا تعالیٰ نے میری امت کا نام مسلم اور میرے مذہب کا نام اسلام رکھا ہے۔یہ نام اپنے اندر ایسی گہری حکمت اور فلسفہ رکھتا ہے کہ اگر غور سے کام لیا جائے تو اس نام میں ہی اسلام کی غرض وغایت پوری وضاحت سے بیان کر دی گئی ہے۔عربی زبان کی خصوصیات میں سے یہ ایک عجیب خصوصیت ہے کہ اس میں صرف الفاظ کے معنے نہیں ہوتے بلکہ حروف کے بھی معنے ہوتے ہیں۔اسی طرح اس زبان میں جو لفظ کسی خاص شے کے لئے وضع کیا گیا ہو وہ صرف اس چیز کے لئے بطور علامت نہیں ہوتا بلکہ وہ نام کسی خاص مناسبت کی وجہ سے رکھا جاتا ہے اور وہ نام ہی بتا دیتا ہے کہ اُس چیز میں وہ کونسی خصوصیت ہے جس کی وجہ سے اُس کا فلاں نام رکھا گیا ہے۔مثلاً اردو میں ایک لمبی چیز کو لمبی کہیں گے۔ماں کو ماں کہیں گے۔باپ کو باپ کہیں گے مگر ان الفاظ سے یہ پتہ نہیں لگے گا کہ ان میں وہ کیا امتیازی بات ہے جس کی وجہ سے انہیں اس نام سے مخصوص کیا گیا ہے۔اور اگر ہم ان لفظوں کی بجائے اور لفظ رکھ دیں تب بھی ہمارے مطلب اور مدعا میں کوئی نقص واقع نہیں ہوگا۔مثلاً اگر چھوٹی چیز کو لمبی کہنے لگیں اور لمبی کو چھوٹی۔اور یہی چیز رائج ہو جائے تو اس سے اردو زبان میں کوئی نقص واقع نہیں ہوگا۔لیکن عربی زبان کا یہ حال نہیں۔اس میں اگر طویل کو قصیر کہنے لگیں تو یہ کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا کیونکہ طَ وَ لَ جن معنوں پر