تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 21

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ اگر ہم نے کوئی دل بہلاوا ہی تجویز کرناہوتا تو اس کو اپنے قرب میںتجویز کرتے لیکن ہم تو حق كُنَّا فٰعِلِيْنَ۰۰۱۸بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ کو باطل پراٹھامارتے ہیںاور وہ اس کاسرتوڑ دیتاہے اور وہ( باطل) فورًاہی بھاگ جاتاہے۔اور تم فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ۰۰۱۹ پرتمہاری باتوں کی وجہ سے افسوس ہے۔حلّ لُغَات۔نَقْذفُ۔نَقْذِفُ قَذَفَ سے مضارع جمع متکلم کا صیغہ ہے اور قَذَفَ بِہٖ کے معنے ہوتے ہیںرَمَی بِہٖ اس کو پھینکاعربی میںمحاورہ ہے ھُمْ بَیْنَ حَاذِفٍ وَ قَاذِفٍ اَیْ ضَارِبٌ بِالْعَصَاءِ وَ رَامٍ بِالْحِجَارَةِ یعنی ان میں سے بعض تو سونٹے سے مارنے والے ہیں اور بعض پتھر مارنے والے ہیں(اقرب) پس نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ کے معنے ہیں ہم حق کوباطل پرپتھر کی طرح مارتے ہیں۔یدمغ یَدْمَغُ دَمَغَ سے مضارع کا صیغہ ہے اور دَمَغَہٗ کے معنے ہیںشَجَّہٗ حَتّٰی بَلَغَتِ الشَّجَّۃُ دِمَاغَہٗ اس کے سرکوایسا زخم لگایا کہ وہ زخم اس کے دماغ تک پہنچ گیا۔نیز جب دَمَغَ الْحَقُّ الْبَاطِلَ کہیںتو معنے ہوتے ہیں اَبْطَلَہٗ و مَحَقَہٗ۔اس کو باطل کر دیا اور مٹادیا پس یَدْمَغُہٗ کے معنے ہیں اس کا سرتوڑ دیتاہے اور اس پر غالب آجاتاہے۔تفسیر۔مفسرین ا س کے یہ معنی کرتے ہیںکہ اگر ہم ان کو کھیل کے طورپر پید اکرتے تو اپنے پاس رکھتے کیونکہ کھیل کی چیزیں اپنے پاس رکھی جاتی ہیں اسی طرح کہتے ہیں کہ لھو کے معنے بیٹے کے ہیں اور خدا تعالیٰ یہ کہتاہے کہ اگر ہم نے کوئی بیٹابنانا ہوتا تو اپنی جنس کا بناتے نہ کہ انسان بناتے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ لھو سے مراد مرد اور عورت کا خاص تعلق ہے اور مراد یہ ہے کہ اگر میں نے ایسا تعلق رکھنا ہوتا تو اپنی جنس سے رکھتا نہ کہ انسان کی جنس سے(تفسیر بغوی زیر آیت ھذا) مگر میرے نزدیک چونکہ آگے یہ ذکر ہے کہ بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ اس لئے اس کا بیٹے یاعورت سے کوئی تعلق نہیں۔البتہ کھلونے والے معنے درست ہیں اور مراد یہ ہے کہ اگر ہم کھلونوں سے کھیلنے والے ہوتے تو کھلونا اپنے پاس رکھتے تمہیں کیوں دیتے مگر اس کے ایک معنے یہ بھی