تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 20

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِيْدًا اور وہ یہی بات کہتے چلے گئے یہاں تک کہ ہم نے ان کو ایک کٹی ہوئی کھیتی کی طرح کردیا جس کی سب رونق خٰمِدِيْنَ۰۰۱۶ برباد ہو چکی تھی۔حلّ لُغَات۔حصیدًا۔حَصِیْدًاکے معنے ہیں الزَّرْعُ الْمَحْصُوْدُ کٹی ہوئی کھیتی۔خَامِدِیْن۔خَامِدِیْنَ خَامِدٌ سے جمع کا صیغہ ہے جو خَمَدَ سے اسم فاعل ہے۔او ر خَمَدَتِ ا لنَّارُ کے معنے ہیںآگ بجھ گئی اور خَامِدِیْنَ کے معنے ہیںاَیْ لَا یُسْمِعُ لَھُمْ حِسٌّ اَوْ مَوْتٰی وہ ایسے ہوگئے کہ ان کی کوئی حس باقی نہ رہی یا وہ مردہ ہوگئے (اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔ہم نے ان کی جڑوں کو کاٹ دیا اور وہ بجھی ہوئی آگ کی طرح ہوگئے۔یعنی بڑھنے اور ترقی کرنے کامادہ ان میں نہ رہا۔ان کی امنگیں جاتی رہیں اور ان کی ترقی کی خواہشیں مٹ گئیں جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ کاعذاب نازل ہوتاہے۔ان کی یہی حالت ہوتی ہے۔وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا لٰعِبِيْنَ۰۰۱۷ اور ہم نے آسمان کو اورزمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے محض کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔(بلکہ ان کی پیدائش میں حکمت تھی)۔حلّ لُغَات۔لَاعِبیْنَ۔لَاعِبِیْنَ لَاعِبٌ کی جمع ہے جو لعب سے اسم فاعل ہے او رلَعِبَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں ضِدُّ جَدَّ وَمَزَحَ۔یعنی سنجیدگی کے بالمقابل کی حالت اختیار کی اور مزاح کرنے لگ گیا۔اَوْ فَعَلَ فِعْلًا بِقَصْدِ اللَّذَّۃِ اَوِ التَّنَزُّہِ او ر یا صرف مزے کی خاطر کام کیا یاہنسی کھیل میںکام کیا۔(اقرب) تفسیر۔یہاں فرماتا ہے کہ آسمان اور زمین پرغور کرکے دیکھو ہم نے ان کوبغیر حکمت کے نہیں پیدا کیا۔بلکہ حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ انسان کو جو اشرف المخلوقات ہے بے حکمت پید اکیاہو کہ کھائے پیئے اورمرجائے۔