تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 22
ہو سکتے ہیں کہ ہم نے جو یہ دنیاکا کارخانہ بنایا ہے جس سے بنی نوع انسان اتنا فائدہ اٹھاتے ہیں کیا اس کارخانہ کو ہم نے ہنسی اور تمسخر کے طور پر ہی بنایا ہے۔اگر اسی لئے بنایا ہے تو کیا ہم اپنی ہی ذات سے تمسخر کرتے ہیں۔یہ تو کوئی عقلمند نہیں کیا کرتا۔پھر ہم ایسے کس طرح کر سکتے تھے۔بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ بلکہ ہم تو ہمیشہ حق و حکمت کی باتیں دنیا میں بھیجتے رہتے ہیں تاکہ وہ باطل کا سر کچل دیں اور ہمیشہ باطل حق کے مقابلہ میں بھاگ جاتاہے پس اگر یہ دنیا ہم نے بے حقیقت پید اکی ہوتی تو الہام الہٰی کاسلسلہ دنیا میںکیوں جاری کرتے ؟ وَ لَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ اس میںبتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی باتوں پرہنسی اڑانا بہت معیوب بات ہے۔اور اس کا بڑا خطرناک نتیجہ نکلتاہے کیا ہنسی اور مذاق کے لئے ان کے پاس خدا کا کلام ہی رہ گیا ہے اگر وہ اس سے باز نہ آئے تو ان پر سخت عذاب نازل ہوگا۔وَ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا اورجو وجود بھی آسمان میںہیں اور زمین میںہیں سب اسی کے ہیں۔او ر جو اس کے پاس ہیں وہ اس کی يَسْتَكْبِرُوْنَ۠ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ۠ۚ۰۰۲۰ عبادت سے سرتابی نہیں کرتے۔اورنہ( اس سے) تھکتے ہیں وہ رات کوبھی اور دن کوبھی تسبیح کرتے ہیں۔يُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ لَا يَفْتُرُوْنَ۰۰۲۱اَمِ اتَّخَذُوْۤا اور وہ اس سے رکتے نہیں۔کیا ان لوگوں نے زمین میںسے معبود بنالئے ہیں ؟ اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ يُنْشِرُوْنَ۰۰۲۲ اور وہ (مخلوقات) پیدا کرتے ہیں۔حلّ لُغَات۔یَسْتَحْسِرُوْنَ۔یَسْتَحْسِرُوْنَ اِسْتَحْسَرَسے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور اِسْتَحْسَرَ کے معنے ہیںاَعْیَا۔وہ تھک گیا اور لَایَسْتَحْسِرُوْنَ کے معنے ہوںگے لَایَعْیَوْنَ مِنْھَا وہ عبادت سے تھکتے نہیں۔(اقرب) یُنْشِرُوْنَ۔یُنْشِرُوْنَ اَنْشَرَ سے مضارع جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے۔اور اَنْشَرَاللہُ ا لْمَیِّتَ کے معنے ہوتے