تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 244

لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى اور تم باقی دنیا پر گواہ رہو۔پس نماز کو قائم کرو او ر زکوٰۃ دو النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ اور اللہ (تعالیٰ) کو مضبوطی سے پکڑلو۔وہ تمہارا آقا ہے۔هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِيْرُؒ۰۰۷۹ پس کیا ہی اچھا آقا ہے اور کیا ہی اچھا مدد گا ر ہے۔حلّ لُغَات۔جَاھِدُوْ ا:جَاھَدَ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مُجَاھَدَۃً وَ جِھَادًا کے معنے ہیں بَذَلَ وُسْعَہٗ۔اللہ تعالیٰ کے راستہ میں اُس نے پوری کوشش صرف کی۔اور جب جَاھَدَ الْعَدُوّ کہیں تو معنے ہوںگے قَاتَلَہٗ دشمن سے لڑائی کی ( اقرب ) جَاھِدُوْا امر کا جمع کا صیغہ ہے۔اس لئے اس کے معنے ہوںگے اللہ کے دین کے لئے پوری کوشش صرف کرو۔مفردات میں ہے۔اَلْجِھَادُ وَالْمُجَاھَدَۃُ: اِسْتِفْرَاغُ الْوُسْعِ فِیْ مُدَافَعَۃ ِ الْعَدُوِّ۔یعنی دشمن کے مقابلہ کے لئے اپنی ساری کوشش صرف کرنے کا نام جہاد اور مجاہدہ ہے۔وَالْجِھَادُ ثَلَاثَۃُ اَضْرُبٍ اور جہاد کا لفظ اسلامی نقطۂ نگاہ سے تین معانی کے لئے استعمال ہوتاہے ( ا) مُجَاھَدَۃُ الْعَدُ وِّ الظَّاھِرِ ظاہر دشمن کا مقابلہ ( ۲) مُجَاھَدَۃُ الشَّیْطَانِ۔شیطان کا مقابلہ ( ۳) وَمُجَاھَدَۃُ النَّفْسِ۔نفس کو بدی سے روکنے اور نیکی پر لگانے کے لئے نفس کا مقابلہ۔امام راغب ؒ لکھتے ہیں۔وَتُدْخُلُ ثَلَاثَتُھَا فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالَی وَجَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖ۔۔۔۔۔۔۔کہ آیت وَجَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖ۔۔۔۔۔۔۔۔میں مذکورہ بالا تینوں معانی مدنظر رکھے گئے ہیں ( مفردات ) اِجْتَبٰکُمْ۔اِجْتَبَاہُ کے معنے ہیں اِخْتَارَہٗ وَاصْطَفٰہُ۔اُس کو چُن لیا ( اقرب) پس اِجْتَبٰکُمْ کے معنے ہوںگے اُس نے تمہیں چن لیا ہے۔حَرَجٌ مفردات میں ہے کہ قِیْلَ لِلضَّیْقِ حَرَجٌ وَلِلِاثْمِ حَرَجٌ۔یعنی تنگی کو بھی حرج کہتے ہیں اور گناہ کو بھی۔اِعْتَصِمُوْا : اِعْتَصَمَ بِہٖ کے معنے ہیں اَمْسَکَہٗ بِیَدِہ ٖ۔اس کو ہاتھ سے پکڑ لیا اور اِعْتَصَمَ بِاللّٰہِ کے معنے