تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 243

اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ کے احکام پر عمل کرنے کے تمہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ہاں اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل کرو۔ہمارے احکام کی فرمانبرداری کا عہد کرو اور ہماری عبادت میں لگ جائو تو ہم تمہیں کامیاب کر دیں گے۔پھر فرماتا ہے وَ افْعَلُوا الْخَيْرَ جب تم یہ باتیں کرلو۔یعنی جب تم اللہ تعالیٰ پر توکل کرو جب تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا جوا اپنی گردنوں پر اٹھا لو۔جب تم اُس کی شب وروز عبادت کرو تو پھر چو تھا فرض تمہا را یہ ہے کہ وَ افْعَلُوا الْخَيْرَ تم بنی نوع انسان کی بھلائی کی کوشش کرو تم یتیموں کی خبر گیری کرو۔تم بیوائوں کی نگہداشت کرو۔تم مساکین سے شفقت اور رأفت کے ساتھ پیش آئو تم ہمسائیوں سے نیک سلوک کرو۔تم دین اسلام کو اُن لوگوں میں پھیلا ئو جو اسلامی تعلیم سے نا آشنا ہیں۔غرض جس قدر اچھے کام ہیں وہ سب کرو لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ تاکہ تم کامیاب ہو جائو۔وَ افْعَلُوا الْخَيْرَ کو تو لوگ کسی حد تک مانتے ہیں مگر باقی جس قد ر احکام ہیں ان کو دنیا عمومًا اپنی تباہی کی علامت سمجھتی ہے۔لوگ کہتے ہیں جو توکل کرے گا اُس کا بیڑہ غرق نہیں ہوگا تو اَور کس کا ہو گا؟ پھر وہ کہتے ہیں جو احکام مذہبی پر چلے گا اور دین کی ترقی کے لئے چندے دے گا۔وہ غریب نہیں ہوگا تو اَور کون ہوگا ؟ اسی طرح وہ کہتے ہیں جو پانچ وقت نماز پڑھےگا وہ تین چار گھنٹے ضرور ضائع کر دے گا۔اور جس نے اپنے اوقات کا اتنا بڑا حصہ اس طرح رائیگاں کھو دیا وہ دنیا میں کامیاب کس طرح ہوگا ؟ غرض دنیا ان تمام باتوں کو تباہی کا موجب سمجھتی ہے قرآن کریم کہتا ہے کہ وہی تم کرو کیونکہ دنیوی ترقی اور دینی ترقی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اس کے ذرائع اور ہوتے ہیں اور اُس کے ذرائع اَور ہیں۔وَ جَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا اور اللہ( تعالیٰ) کے راستہ میں ایسی کوشش کرو جو مکمل ہو کیونکہ اُسی نے تم کو بزرگی بخشی ہے۔اور دین (کی تعلیم) جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِيْكُمْ میں تم پر کوئی تنگی کا پہلو اختیار نہیں کیا۔(اے مومنو) اپنے باپ ابراہیم ؑ کے دین کو( اختیار کرو کیونکہ) اللہ نے اِبْرٰهِيْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِيْ هٰذَا تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔اس کتاب میں بھی اور اس سے پہلی کتب میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ ہو