تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 19
تفسیر۔فرماتا ہے۔نیکی اور بدی کی لہریں دنیا میںہمیشہ چلتی رہتی ہیں۔انسان ایک عرصہ کے بعد بگڑ جاتاہے۔پھر اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کرتاہے اور جب وہ اصلاح کے سامان پیدا کرتاہے۔پہلے مفسد لوگ اصلاح کرنے والے کا مقابلہ کرتے ہیں۔اور پھر ہمیشہ بھاگ جاتے ہیں۔اس جگہ ظالم کے معنے ایسے شخص کے ہیں جو اپنے حقوق اور طاقتوں کوغیر محل استعمال کرتاہے یا کوئی حقیقت جو کسی کی طرف منسوب کرنی چاہیے وہ نہیںکرتا۔یا جو بات کسی میں نہیں ہے وہ اس کی طرف منسوب کر دیتاہے۔دنیا میںتمام بدیاں انہی باتوں سے پید اہوتی ہیں۔اگر ہر ایک طاقت کو اپنے موقعہ اور محل پر استعمال کیاجائے تو ہمیشہ نیک نتائج پید اہوں نقصان کا موجب وہی بات ہوتی ہے جوبے جاطریق سے کی جاتی ہے۔وہ بستیاں جن میںرہنے والے اپنی طاقتوں کے بے جا اور بے محل استعمال کرکے ظالم بن گئے تھے ان کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو ہلاک کردیااور ان کی جگہ دوسری قوم کو کھڑا کردیا۔لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِيْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ ( تب ہم نے کہا )دوڑو نہیں اور ان چیزوں کی طرف جن کے ذریعہ سے تم آرام کی زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے لَعَلَّكُمْ تُسْـَٔلُوْنَ۰۰۱۴قَالُوْا يٰوَيْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيْنَ۰۰۱۵ گھروںکی طرف واپس جائو تاکہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق سوال کیاجائے اس کا انہوں نے یہ جواب دیا کہ اے افسوس ہم تو (عمر بھر) ظلم ہی کرتے رہے۔حلّ لُغَات۔أُتْرِفْتُمْ۔اُتْرِفْتُمْ اَتْرَفَ سے جمع مخاطب مجہول کاصیغہ ہے اور اَتْرَفَ النِّعْمَۃُ زَیْدًاکے معنے ہیںنَعَّمَتْہُ زیدکو نعمت نے خوشحال بنادیا اسی طرح اَتْرَفَتْہٗ النِّعْمَۃُکےمعنے ہوتے ہیں اَطْغَتْہُ وَ اَبْطَرَتْہُ اس کو نعمت اور خوشحالی نے متکبر اور سرکش بنادیا (اقرب ) مفردات میں ہے التَّرَفُّہٗ التَّوَسُّعُ فِی النِّعْمَۃِ کہ التَّرَفُّہُ کے معنے ہیںنعمتوں کی کثرت۔پس وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِيْهِ کے معنے ہوںگے کہ جن چیزوں کے ذریعہ سے تم آرام اور نعمت کی زندگی بسر کرتے تھے ان کی طرف لوٹو۔تفسیر۔اس آیت میں بتایاگیا ہے کہ مجرم لوگ آخرمیں اپنی غلطی کااقرار کرتے ہیں مگر ان کی یہ اصلاح صرف سزا کے زمانہ تک رہتی ہے اس کے بعد پھر بگاڑ شروع ہو جاتا ہے۔