تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 230

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِ اور جب اُن کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیات پڑھی جاتی ہیں تو تُو منکروں کے چہروں میں (صاف صاف) الَّذِيْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ يَكَادُوْنَ يَسْطُوْنَ بِالَّذِيْنَ ناپسندیدگی (کے آثار) دیکھتا ہے۔قریب ہوتا ہے کہ وہ اُن لوگوں پر حملہ کردیں جو اُن کو ہماری آیتیںپڑھ کر يَتْلُوْنَ عَلَيْهِمْ اٰيٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ سُنا رہے ہوتے ہیں توکہہ دے کیا میں تم کو اس حالت سے بھی ایک بُری حالت کی خبردوں (اور وہ) جہنم ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِيْرُؒ۰۰۷۳ (میں پڑنا) ہے۔اللہ (تعالیٰ) نے اُس کا وعدہ منکروں سے کیا ہے اور وہ بُراٹھکا نہ ہے۔حلّ لُغَات۔اَلْمُنْکَرُ اَلْمُنْکَرکے معنے ہیں مَالَیْسَ فِیْہِ رِضَی اللّٰہِ مِنْ قَوْلٍ اَوْ فِعْلٍ۔یعنی ہر وہ بات یا فعل جس میں خدا تعالیٰ کی رضا نہ ہو۔اور اللہ تعالیٰ کو پسند نہ ہو اسے منکر کہتے ہیں ( اقرب) یَسْطُوْنَ۔یَسْطُوْنَ سَطَاسے مضارع جمع غائب کا صیغہ ہے اور سَطَا عَلَیْہِ ( یَسْطُوْ) کے معنے ہوتے ہیں صَالَ عَلَیْہِ وَوَثَبَ۔اُس پرکود کر حملہ کیا۔وَقِیْلَ قَھَرَہٗ بِالْبَطْشِ اَوْ بَسَطَ عَلَیْہِ بِقَھْرِہٖ مِنْ فَوْقٍ (اقرب) اور بعض علماء لغت کہتے ہیں کہ سَطَا کے معنوں کے اندر یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ کسی پر سخت گرفت کرکے اُس کو دبانے کی کوشش کی یا اس پر دبائو ڈال کر اُس کو کمزور کر نےکی کوشش کی۔پس یَسْطُوْنَ کے معنے ہوںگے (۱) وہ حملہ کرتے ہیں (۲) یا وہ ہر قسم کا دبائو ڈال کر مومنوں کو تبلیغ سے روکنا چاہتے ہیں۔اَلْمَصِیْرُ اَلْمَصِیْرُکے معنے ہیں۔جانے کی جگہ ( اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے جو لوگ شرارتی ہوتے ہیں حق بات سُن کر اُن کو غصہ آجاتا ہے اور وہ مومنوں پر حملہ کرنے لگ جاتے ہین اور ہر قسم کا دبائو ڈال کر انہیں تبلیغ سے روکنا چاہتے ہیں۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ حق بات کو ماننا خود ان کے فائدہ کا موجب ہے۔اور اگر وہ اسے نہیں مانیں گے تو دُکھ پائیں گے۔وہ صرف جوش میں فتنہ و فساد پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور مومنوں کو دکھ دینا شروع کر دیتے ہیں۔