تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 229
يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا کے سوا اُن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کے لئے اُ س نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور جن کے متعلق ان کو لَيْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ۰۰۷۲ کسی قسم کا کوئی علم حاصل نہیں۔اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں ہوگا۔حلّ لُغَات۔جَادَلُوْا۔جَادلُوْاجَادَلَ سے جمع مذکر کا صیغہ ہے اور جَادَلَہٗ کے معنے ہیں خَاصَمَہٗ شَدیدًا۔اُس کے ساتھ سختی سے لڑائی کی ( اقرب )پس جٰدَلُوْكَ کے معنے ہوں گے۔اگر تیرے مخالف تیرے ساتھ سختی سے لڑائی اورجھگڑا کریں۔یَسِیْرٌ۔اَلْیَسِیْرُ کے معنے ہیں اَلْھَیِّنُ۔آسان۔اَلْقَلِیْلُ۔تھوڑا ( اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔اگر وہ کج بحثی سے کام لیں اور باوجو ددلائل بیان کر دینے کے اور سیدھا راستہ دکھادینے کے جھگڑیں۔تو تُو انہیں کہہ دے کہ اگر دین کی تعلیم سے تم ہدایت نہیں پاتے تو انجام کا انتظار کرو۔اور دیکھو کہ عالم الغیب خدا کس کی مدد کرتا ہے۔پھر مشرکین کے خلاف تین دلائل دیتا ہے۔اوّل یہ کہيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا۔وہ اللہ تعالیٰ کے سوا جن چیزوں کی پرستش کرتے ہیں اُن کی پرستش کے متعلق وہ سابق الہامی کتابوں میں سے کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے محض اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید میں اُن کی عبادت کرتے چلے جاتے ہیں۔دوم۔دوسرے یہ کہ وَّ مَا لَيْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ اُن معبودوں کے متعلق وہ اپنے ذاتی تجربہ اور مشاہدہ کی بناء پر بھی کوئی دلیل پیش کرنے سے عاجز ہیں۔حالانکہ جب یہ معاملہ اُن کی اُخروی نجات کے ساتھ تعلق رکھتا تھاتو اُن کا فرض تھا کہ وہ محض دوسروں کی سُنی سُنائی باتوں کے پیچھے نہ چل پڑتے بلکہ اُن کے متعلق ذاتی تحقیق اور غورو فکر سے بھی کام لیتے۔مگر انہوں نے سُنی سُنائی باتوں پر اکتفا کر لیا اور ذاتی بصیرت سے کام نہ لیا۔سوم۔تیسرے یہ کہ وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍمشرکین کا جب بھی موحدین سے مقابلہ ہو جائے۔مشرک لوگ الٰہی مدد سے محروم رہتے ہیں اور اس طرح ثابت ہوجاتا ہے کہ وہ ایک غلط راستے پر جا رہے ہیں۔