تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 231

چنانچہ دیکھ لو بانی سلسلہ احمدیہ نے جب یہ دعویٰ پیش کیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام دوسرے تمام انبیاء کی طرح وفات پا چکے ہیں تو کس طرح سارے ہندوستان میں ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک ایک آگ لگ گئی اور مخالفت کا ایک طوفان اُمڈ آیا۔علماء اپنے بستے کھول کر بیٹھ گئے اور لکھتے لکھتے اُن کی قلمیں گھس گئیں۔اور تقریریں کرتے کرتے اُن کی زبانوں پر آبلے پڑ گئے۔انہوں نے بانی سلسلہ احمدیہ کو کافر اور اکفر اور دجّا ل اور ضال اور مضل کہنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور عرب تک کے علماء سے آپ پر کفر کا فتویٰ لگوایا۔مگر نتیجہ کیا ہوا ہر دن جو نیا چڑھا اُس میں اُن کے چند ماننے والے اگر احمدی نہیں ہوئے تو حیاتِ مسیح کا انکار ضرور کرنے لگ گئے اور آج یہ کیفیت ہے کہ نئے تعلیم یافتہ آدمیوں میں سے ایک بھی حیاتِ مسیح کا قائل نظر نہیں آئے گا بلکہ عام طور پر مسلمانوں سے اس مسٔلہ پر گفتگو کی جائے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اس مسٔلہ میں رکھا ہی کیا ہے چلو اسے چھوڑو۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے دل اس مسٔلہ کی صداقت کو تسلیم کرنے لگ گئے ہیں۔اسی طرح جب بانی سلسلہ احمدیہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ملک میں اپنے انبیاء مبعوث فرمائے ہیں تو ساری دنیا میں ایک آگ لگ گئی اور لوگوں نے کہا۔دیکھو یہ رام اور کرشن کو بھی نبی قراردے کر کافروں کو خدا کا رسول قرار دیتا ہے لیکن آج شدید ترین مخالف بھی اس مسٔلہ کی صحت کو تسلیم کر چکے ہیں۔اور مخالف اخبارات میں اس بات پر کئی دفعہ مضامین شائع ہو تے رہتے ہیں کہ اسلام پہلے انبیاء کی صداقت کا بھی قائل ہے خواہ وہ یہودیوں کی طرف آئے ہوں یا ہندوؤں اور زرتشتیوں وغیرہ کی طرف آئے ہوں۔اسی طرح بانی سلسلہ احمدیہ نے جب قرآن کریم کے کامل ہونےکا دعویٰ پیش کیا اور بتایا کہ قرآن کریم کی کوئی آیت منسوخ نہیں تو علماء کہلانے والے اتنے جوش میں آگئے کہ اُن کے مونہوں سے جھاگ اور اُن کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگ گئے۔مگر آج علماء یا اُن عوام سے جو اسلام سے دلچسپی رکھتے ہیں پوچھ کر دیکھ لو۔وہ قرآن مجید کی تمام آیتوں سے استدلال کریں گے اور کسی آیت کے منسوخ ہونے کا نام بھی نہیں لیں گے۔یہی کیفیت ہر زمانہ میں رہی ہے جب بھی خدا تعالیٰ کا کوئی نبی دنیا میں آیا اور اس نے خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایا۔لوگوں نے اُس کی مخالفت شروع کر دی اور اُسے سخت سے سخت اذیتیں پہنچائیں۔مگر آخر دنیا کو وہی تعلیم ماننی پڑی جو خدا تعالیٰ کے انبیاء کی طرف سے پیش کی گئی تھی اور انہیں اپنی شکست تسلیم کرنی پڑی۔مخالفین کے اس معاندانہ رویہ کا اللہ تعالیٰ اس آیت میں ذکر کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ جب مخالفین کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیات پڑھی جاتی ہیں تو تُو منکروں کے چہروں میں ناپسندیدگی کے آثار دیکھتا ہے اور قریب ہوتا ہے کہ وہ اُن لوگوں پر حملہ کر دیں جو انہیں ہماری آیات سُناتے ہیں۔