تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 228
جو اعلیٰ تعلیم دنیا میں لائے وہ مسیح ناصری نہیں لائے۔آپ حیران ہو ں گے کہ میں عیسائی ہو کر ایسی بات کر رہا ہوں لیکن میں سچی بات کا انکار کیسے کر سکتا ہوں۔پھر جب میں اُسے رخصت کر کے اپنے کمرے کی طرف آیا تو مجھے محسوس ہو اکہ کوئی شخص میرے پیچھے پیچھے آرہا ہے۔میں نے مُڑ کر دیکھا تو ڈسمنڈ شا آرہا تھا۔کہنے لگا میرے دل میں ایک سوال پیدا ہوا تھا میں نے چاہا کہ آپ سے پوچھ لوں۔میں نے کہا کیا سوال ہے۔کہنے لگا جب میں یہ تقریر کرتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے نبی تھے تو مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ میری زبان سے خدا بول رہا ہے۔مگریہ عیسائی لوگ پھر بھی نہیں مانتے۔میں نے کہا مسٹر ڈسمنڈشا! یہ لوگ صرف تمہاری آواز سُنتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی آواز نہیں سُنتے۔لیکن جب یہ لوگ بھی خدا تعالیٰ کی آواز سُننے لگ گئے اور خدا تعالیٰ ان کے دلوں میں بھی بولا تو اِن پر بھی اثر ہو جائےگا۔اور یہ بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے قائل ہوجائیں گے اس پر اُس کی تسلی ہو گئی۔غرض اللہ تعالیٰ نےاِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِيْمٍمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا یہ ثبوت پیش کیا ہے کہ دنیا ہزار انکار کرے وہ زمانہ کی ٹھوکریں کھانے کے بعد آخراس تعلیم کی طرف آئےگی۔جو تیری طرف سے پیش کی جارہی ہے کیونکہ توسیدھے راستہ پر قائم ہے اور لوگ ضلالت اور گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹک رہے ہیں۔وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۰۰۶۹اَللّٰهُ اور اگر وہ تجھ سے بحث کریں تو کہہ دے کہ اللہ (تعالیٰ) تمہارے اعمال سے خوب واقف ہے۔اللہ (تمہارے اور يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ میرے درمیان) قیامت کے دن اُن اُمور میں فیصلہ کرے گا جن میں تم اختلاف رکھتے ہو۔(اے محمد ؐرسول اللہ !) تَخْتَلِفُوْنَ۰۰۷۰اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَآءِ وَ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ (تعالیٰ) ہر چیز کو جو آسمان اور زمین میں ہے جانتا ہے۔یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِيْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرٌ۰۰۷۱وَ ہوا موجود ہے۔اور اس طرح (کسی قانون کو محفوظ) کر دینا اللہ( تعالیٰ) کے لئے آسان ہے۔اور وہ لوگ اللہ( تعالیٰ)