تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 18

تک معاف کرو کہ اس کی اصلاح ہو۔مگر جب معاف کرنے سے شرارت پیدا ہوتی ہو تو معاف نہ کرو۔اب دیکھ لو جو شخص اس تعلیم پرعمل کرےگا اس کو عزت نصیب ہوگی یاذلت ؟ اگر اس تعلیم پرعمل کرنا لعنت ہے تب تو عیسائی سچے ہیں لیکن اگر اس تعلیم پرعمل کرنا لعنت کا موجب نہیں بلکہ عزت کا موجب ہے تو قرآن سچاہے اور مسیحیت جو شریعت کو لعنت قرار دیتی ہے جھوٹی ہے۔وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا اور کتنی ہی بستیاں ہیں جو ظلم کیاکرتی تھیں۔کہ ہم نے ان کو کاٹ کر رکھ دیا اور ان کے بعد ایک اور قوم کو بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِيْنَ۰۰۱۲فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ پیداکردیا۔پس جب (ہلاک ہونے والے لوگوں نے ) ہمارے عذاب کو محسوس کیاتو لگے (اس سے مِّنْهَا يَرْكُضُوْنَؕ۰۰۱۳ بچنے کے لئے )دوڑنے۔حلّ لُغَات۔قَصَمْنَا۔قَصَمْنَاقَصَمَ سے جمع متکلم کا صیغہ ہے اور قَصَمَہُ کے معنے ہوتے ہیں کَسَرَہٗ وَ اَبَانَہٗ۔اس کو توڑدیااور ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور مختلف حصوں کو علیحدہ کردیا اور جب قَصَمَہُ اللہُ کہیں تو معنے ہوں گے۔اَھَانَہٗ وَ اَذَلَّہٗ اس کو اللہ تعالیٰ نے ذلیل و خوار کیا۔(اقرب) مفردات میں ہے وَکَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ کَانَتْ ظَالِمَۃً اَیْ حَطَمْنَاھَا وَ ھَشَمْنَا ھَا وَ ذٰلِکَ عِبَارَۃٌ عَنِ الْھَلَاکِ یعنی آیت کَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَۃٍکے معنے ہیںہم نے بہت سی بستیوںکو تباہ و برباد کردیا۔اور اس طرح ہلاک و ویران کیا کہ ان کے مکانات ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوگئے۔اَلْبَأْسُ۔اَلْبَأْسُ الْعَذَابُ عذاب اَلشِّدَّۃُ فِی الْحَرْبِ لڑائی کی سختی۔(اقرب) یَرْکُضُوْنَ۔یَرْکُضُوْنَ رَکَضَ سے جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے اور رَکَضَ کے معنے ہوتے ہیں حَرَّکَ رِجْلَہٗ اپنے پائوں کوحرکت دی اور رَکَضَ مِنْہٗ کے معنے ہیں ھَرَبَ مُسْرِعًا جلدی جلدی بھا گا (اقرب) پس یَرْکُضُوْنَ کے معنے ہوںگے وہ جلدی جلدی بھاگتے تھے۔