تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 218

ہے تاکہ تم اس کی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاکر ترقی کر سکو۔ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ زمانہ کی سائینس قرآن کریم کی اس بیان کردہ صداقت کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کرتی چلی جا رہی ہے۔اور ہزاروں اشیاء جن کو پہلے بالکل بے کار سمجھا جاتا تھا اُن کے عجیب در عجیب خواص معلوم ہو رہے ہیں۔سم الفار ، بیش اور کچلہ نے ہزاروں انسانوں کو ہلاک کیا مگر اب وہی سم الفا راور بیش اور کچلہ کروڑوں انسانوں کی زندگی کا موجب بن رہے ہیں۔اسی طرح سانپ کے ڈسنے سے بیشک ہزاروں اموات ہوتی ہیں مگر اُسی سانپ کے زہر کو کئی قسم کے خطرناک امراض میں استعمال کر کے اس کے تریاقی فوائد حاصل کئے جارہے ہیں۔اور لاکھوں انسان اس سے نئی زندگی حاصل کر رہے ہیں۔پاخانہ کتنی گندی اور بظاہر بےکار نظر آنے والی چیز ہے مگر یہی چیز کھاد بن کر بنی نوع انسان کو کتنا بڑا فائدہ پہنچاتی ہے غرض کوئی چیز ایسی نہیں جو اپنے اندر افادیت کا پہلو نہ رکھتی ہو اور جس کی پیدائش بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کے لئے نہ کی گئی ہو۔پہاڑوں کو ہی دیکھ لو یہ بنی نوع انسان کو کتنابڑا فائدہ پہنچارہے ہیں جب موسم گرما کی تپش سے انسانی بدن جھلسنے لگتا ہے تو پہاڑوں کی بلندی پر پہنچ کر وہ نہایت آرام اور سکون کی زندگی بسر کر نے لگتا ہے اور آفتاب کی حدت سے امن میں آجاتا ہے۔پھر انہی پہاڑوں سے سونا اور چاندی اور لوہا اور ابرق اور کروم اور دوسری کئی قسم کی قیمتی دھاتیں حاصل کی جاتی ہیں۔نمک جس پر انسانی زندگی کا انحصار ہے انہی پہاڑوں میں پیدا ہوتا ہے۔پھر کئی قسم کی جڑی بوٹیاں ہیں جو وہاں پائی جاتی ہیں اور جن سے انسان طبی رنگ میں بھی فائدہ اٹھاتا ہے اور تجارتی رنگ میں بھی۔اسی طرح دریائوں اور نہروں سے تمام ملک سیراب ہوتا ہے ہر قسم کی فصلیں ترقی کرتی ہیں اور باغات سر سبز و شاداب ہوتے ہیں۔درختوں کو لے لو تو وہ بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچارہے ہیں۔اور ان کی عمارتی ضروریات کو بھی پورا کر رہے ہیں اور جلانے والی لکڑی اور کوئلہ کی صورت میں بھی ساری دنیا کے کام آرہے ہیں۔غرض دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جو خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کے فائدہ کے لئے نہ پیدا کی ہو۔اور اگر کسی چیز کا فائدہ ابھی تک لوگوں کو معلوم نہیں ہوسکا تو یہ صرف انسانی علم کی کوتاہی کا نتیجہ ہے ورنہ اللہ تعالیٰ نے کرۂ ارض کی تمام اشیاء انسانوں کی خدمت کے لئے پیدا کی ہیں اُس نے پہاڑوں اور اُن کی برفوں اور اُن کے درختوں اور اُن کے پھولوں اور اُن کی بوٹیوں اور اُن کے اندر چھپی ہوئی کوئلہ کی کانوں ،سیسہ کی کانوں، تانبہ کی کانوں اور ہیرے اور جواہرات کی کانوں کو بھی انسانی فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے اور اُس نے زمین کے صحرائوں میں رہنے والے جانوروں اور پانی کے پتال میں رہنے والی مچھلیوں اور ہوا کے پرندوں کو بھی انسانی فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے۔غرض ہر چیز خواہ وہ زمین کے اندر سے نکالی جانے والی ہو یا جنگل میں اُگنے والی ہو یا دریائوں کے نیچے سے مہیا ہونے والی ہو یا پہاڑوں سے حاصل کی جانے