تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 219

والی ہو صرف انسان کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے۔مگر افسوس کہ وہی انسان جس کی خدمت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان تمام اشیاء کو پیدا کیا تھا کبھی ایسا بیوقوف بن جاتا ہے کہ پتھر کے بے جان بُتوں کے آگے اپنا سر جھکا دیتا ہے۔کبھی ستاروں کو ہر قسم کی بر کت اور نحوست کا اصل موجب قرار دے دیتا ہے اور کبھی سورج اور چاند کی پرستش کرنے لگتا ہے اور وہ خدا جس نے ان چیزوں کو ایک خد مت گار کے طور پر پیدا کیا تھا اُس سے غافل ہو جاتا ہے۔حالانکہ جب وہ اُن کے سامنے اپنا ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوتا ہے یا اُن سے منتیں کر رہا ہوتا ہے تو یہ ایسی ہی بات ہوتی ہے جیسے اپنے غلام کی منّتیں کر رہا ہو یا افسر اپنے چپڑاسی سے ڈر رہا ہو۔اگر دنیا میں کہیں ایسا نظارہ نظر آئے تو ہر شخص ایسے افسر کو پاگل قرار دےگا۔مگر مذہبی دنیا میں ایسے ہزاروں پاگل پائے جاتے ہیں جو اشرف المخلوقات ہوتے ہوئے ان چیزوں کو خدائی طاقتوں سے متصف قرار دیتے ہیں اور اس طرح اپنی انسانیت کی شرمناک تذلیل کے مرتکب ہوتے ہیں۔وَ يُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اُس نے عذاب کے لئے مختلف قسم کی قیود لگا دی ہیں تاکہ بنی نوع انسان اُن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی اصلاح کی طرف توجہ کریں اورپیشتر اس کے کہ وہ کسی عذاب کی لپیٹ میں آئیں خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کر کے اُس کی رضا حاصل کر لیں اور عذاب سے محفوظ ہو جائیں۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ عذاب ہمیشہ دو قسم کے ہوا کرتے ہیں۔ایک تو شرعی عذاب ہوتے ہیں اور ایک طبعی عذاب ہوتے ہیں۔شرعی عذاب اسی وقت آتا ہے جب لوگ خدا تعالیٰ کے کسی رسول کی تکذیب کریں۔مگر طبعی عذاب کے لئے یہ کوئی شرط نہیں بلکہ جو قوم بھی ترقی کے اُن اسباب سے غافل ہو جائےگی جو خدا تعالیٰ نے مادی عالم میں مقرر کئے ہوئے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے عام قانون کے ماتحت خود بخود ہلاک ہو جائےگی۔جیسا کہ آج تک نقشۂ عالم پر ہزاروں قومیں اور حکومتیں اُبھریں اگر پھر ایک وقت ایسا آیا جبکہ وہ کمزوری اور انحطاط کا شکار ہوتے ہوتے مٹ گئیں اور صفحہ عالم پر اُن کا نشان تک باقی نہ رہا۔ان قوموں کی ہلاکت اور بر بادی خدا تعالیٰ کی محبت کی کمی یا ا ُس کے رسولوں کے انکار کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ اس لئے ہوئی کہ انہوں نے ترقی کے اُن قوانین کو نظر انداز کر دیا جو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں جاری کئے ہوئے ہیں۔ان دونوں قسم کے عذابوں کا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف آیات میں ذکر فرمایا ہے۔شرعی عذابوں کے متعلق تو فرماتا ہے وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا (بنی اسرائیل:۱۶) یعنی ہم کسی قوم پر عذاب نہیں بھیجتے جب تک اس کی طرف اپنا کوئی رسول نہ بھیج لیں۔جب رسول کے آنے کے بعد اس