تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 217

لگتی ہے۔یہی حال زکوٰۃ کا ہے وہ بھی قومی ترقی کا ایک زبر دست ذریعہ ہے کیونکہ حکومت امراء سے اُن کے اموال کا ایک حصہ لے کر غرباء پر خرچ کرتی ہے اور اس طرح فقراء۔مساکین۔مؤلفۃ القلوب اور مصائب و آفات میں مبتلا انسان اس روپیہ سے اپنے پائوں پر کھڑے ہو نے کی طاقت حاصل کر لیتے ہیں۔اور قوم اور ملک میں ضعف پیدا نہیں ہوتا۔اسی طرح حج بھی ارکان اسلام میں شامل ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو اس کا فائدہ بھی خود مسلمانوں کو ہی پہنچتا ہے کیونکہ اس سے ایک تو خدا تعالیٰ کی خاطر اپنا وطن چھوڑنے کی عادت پیدا ہو تی ہے اور پھر مکّہ مکرمہ میں جب دنیا کے تمام اطراف سے مسلمان جمع ہوتے ہیں تو عالمی اخوت کا احساس ترقی کرتا ہے اور باہمی اتحاد کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں۔غرض اسلامی شریعت نے جس قدر احکام دئیے ہیں خود بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے دئیے ہیں ورنہ خدا تعالیٰ اُن میں سے کسی چیز کا محتاج نہیں۔اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ کیا تو نے دیکھا نہیں کہ اللہ( تعالیٰ) نے تمہارے کام پر جو کچھ بھی زمین میں ہے اُسے بغیر مزدوری کے لگا رکھا ہے۔تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ يُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى اور کشتیاں بھی سمندر میں اُس کے حکم سے چلتی ہیں۔اور اُس نے آسمان کو روک رکھا ہے کہ کہیں زمین پر سوائے الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۰۰۶۶ اُس کے حکم کے گِر نہ جائے۔اللہ (تعالیٰ) یقیناً لوگوں سے بہت شفقت کرنےوالا (اور اُن پر) بار بار رحم کرنےوالا ہے۔حلّ لُغَات۔سَخَّرَ سَخَّرَہُکے معنے ہیں کَلَّفَہٗ عَمَلًابِلَااُجْرَۃٍ۔بغیر مزدوری اور اُجرت کے اُس کو کام میں لگا یا۔( اقرب ) پس سَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ کے معنے ہوںگے کہ زمین کی ہر چیز کو بغیر اس کے کہ تم کوئی معاوضہ ادا کرو تمہاری خدمت میں اُس نے لگا دیا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔اگر وہ تمہاری چھوٹی چھوٹی قربانیوں کا محتاج ہوتا تو زمین کی ہر چیز جو اُس کے قبضہ میں تھی وہ تمہاری خدمت میں کیوں لگادیتا۔اُس نے تو جو کچھ پیدا کیا ہے تمہارے فائدہ اور بھلائی کے لئے پیدا کیا