تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 216

لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اُس کا ہے۔اور اللہ (تعالیٰ) یقیناً اپنے سوا سب وجودوں الْحَمِيْدُؒ۰۰۶۵ کی مدد سے بے نیاز (اور) تعریفوں کا مالک ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے زمین اور آسمان میں جو کچھ ہے وہ خدا کا ہی ہے۔اور اس کو کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔پس ہر قربانی جو وہ تم سے چاہتا ہے صرف تمہارے فائدے کے لئے چاہتا ہے اپنے فائدے کے لئے نہیں۔چنانچہ اسلامی تعلیم پر غور کر کے دیکھ لو اُس نے جس قدر احکام دئیے ہیں محض بنی نو ع انسان کے فائدہ کے لئے دیئے ہیں اس لئے نہیں دئیے کہ اُن سے اُس کی خدائی میں کوئی اضافہ ہوتا ہے۔اگر اُس نے نمازوں کا حکم دیا ہے یا روزوں کا حکم دیا ہے یا زکوٰۃ اور صدقہ و خیرات کا حکم دیا ہے یا حج کا حکم دیا ہے تو یہ تمام احکام ایسے ہیں جن کا بالذات فائدہ خود انسان کو ہی پہنچتا ہے۔خدا تعالیٰ کو نہیں۔مثلاً نماز کو ہی لے لو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ( العنکبوت :۴۶) نماز انسان کو بدیوں اور برائیوں سے روکتی ہے۔پس جو شخص صحیح معنوں میں نماز پڑھتا ہے اُسے دوسرے روحانی فوائد کے علاوہ ذاتی طور پر یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ وہ برائیوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔اسی طرح نماز سے یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ قومی شیرازہ کو متحد رکھنے کا خیال ہر وقت انسان کے ذہن میں جاگزیں رہتا ہے اور اسے یہ احساس رہتا ہے کہ ہمارا ہروقت ایک واجب الاطاعت امام ہونا چاہیے جس کی متابعت میں خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کیا جا سکے۔پھر مسجد میں پانچوں وقت نماز کے لئے جانا ایسی چیز ہے جو بنی نوع انسان کو ذاتی فائدہ پہنچانے والی چیز ہے کیونکہ اُس کے نتیجہ میں ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت ہوتی رہتی ہے۔اور مسلمان تنظیمی رنگ میں اس سے بہت کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اسی طرح روزہ ایک اہم اسلامی عبادت ہے مگر اس کا فائدہ بھی خود انسان کو پہنچتا ہے خدا تعالیٰ کو نہیں۔روزہ کے ذریعہ افراد کے اندر مشقت بر داشت کرنے کی عادت پیدا ہو تی ہے اور یہ ایسی چیز ہے جو مختلف اوقات میں اس کے بے حد کام آتی ہے۔اسی طرح روزہ کے ذریعہ غرباء کی حالت کا احساس پیدا ہوتا ہے اور اُن کو ابھارنے اور ترقی دینے کا جذبہ ترقی کرتا ہے۔جس سے بحیثیت مجموعی تمام قوم فائدہ اٹھاتی ہے اور ترقی کی منزلیں جلد جلد طے کرنے