تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 215
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ یہ( دعائیں سُننا اور حالات سے واقف رہنا) اس لئے ہے کہ اللہ (تعالیٰ) اپنی ذات میں قائم ہے اور دوسری چیزوں الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ۰۰۶۳اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ کو قائم رکھتا ہے اور اس لئے کہ جس چیز کو وہ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ تباہ ہونےوالی ہے اور اس لئے کہ اللہ ہی اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ٞ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ سب سے اوپر ہے اور سب سے بڑا ہے۔کیا تونے دیکھا نہیں کہ اللہ (تعالیٰ) نے آسمان سے پانی اُتارا ہے جس سے اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌۚ۰۰۶۴ زمین سر سبز ہو جاتی ہے۔اللہ (تعالیٰ) یقیناً (اپنے بندوں سے) مہربانی کا سلوک کرنےوالا ہے اور (ان کے حالات سے) بہت با خبر ہے۔حلّ لُغَات۔اَلْبَاطِلُ۔اَلْبَاطِلُ بَطَلَ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔اور بَطَلَ کے معنے ہوتے ہیں فَسَدَ خراب ہو گیا۔اَوْ سَقَطَ حُکْمُہٗ۔اُس کا حکم ختم ہو گیا۔وَذَھَبَ ضَیَا عًا وَخُسْرًا۔ضائع ہو گیا اور گھاٹا کھا کر ختم ہو گیا (اقرب) پس اَلْبَاطِلُ کے معنے ہوںگے۔ضائع ہو جانے والا او ر گھاٹا کھا کر ختم ہونے والا۔تفسیر۔اب بتا تا ہے کہ وہ نظام عالم میں دخل اس لئے دیتا ہے کہ اصل قائم رہنے والی ہستی وہی ہے اور باطل ہلاک ہونے والا ہے۔اگر بندے باطل سے تعلق رکھیں گے تو وہ بھی ہلاک ہوںگے اور اگر حق اور صداقت سے تعلق رکھیں گے تو وہ بھی قائم رہیں گے۔پس تم جو واجب الوجود خدا کےساتھ تعلق رکھو گے ان لوگوں کے مقابلہ میں کس طرح ہار سکتے ہو جو ہلاک ہونےوالی تعلیم کے ساتھ وابستہ ہیں۔یہ تو اس کی ہتک ہے کہ اُس کی طرف سے قائم ہونےوالا سلسلہ تباہ ہو جائے۔اس سے اُس کے علی اور کبیر ہونے پر اعتراض آتا ہے۔تمہارا خدا یقیناً بڑا ہے۔اس لئے تم بھی بڑے ہوگے اور تمہارے دشمن کا بت چھوٹا ہے۔اس لئے لازماً وہ ذلیل اور رسوا ہوگا۔مادی دنیا کو بھی دیکھ لو۔جب مادی پانی نازل ہوتا ہے تو وہ شاداب ہو جاتی ہے اسی طرح روحانی پانی نازل ہوگا تو تم کیوں شاداب نہیں ہوگے۔خصوصاً جب خدا دلوں کے بھید بھی جانتا ہے اور خبرد ار ہے۔