تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 17
ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَيْنٰهُمْ۠ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا او رہم نے جو وعدہ ان سے کیا تھا اسے پورا کر دکھایا اور ان کو اوران کے سواجن کو چاہا (دشمنوں سے) نجات دی اور الْمُسْرِفِيْنَ۰۰۱۰ جو حد سے بڑھنے والے تھے ان کو ہلاک کردیا۔حلّ لُغَات۔مُسْرِفِیْنَ۔مُسْرِفِیْنَ۔أَسْرَفَ سے اسم فاعل جمع کا صیغہ ہے۔اور اَسْرَفَ فِی کَذَا کے معنے ہوتے ہیں جَاوَزَالْحَدَّ فِیْہِ۔حد سے تجاوز کیا اسی طرح اس کے معنے ہیں اَخْطَأَ۔غلطی کی۔جَھِلَ۔نادانی کی غَفَلَ۔غفلت برتی (اقرب) پس مُسْرِفِیْنَ کے معنے ہوںگے۔حد سے تجاوز کرنےوالے۔غلطی کرنے والے نادانی کرنے والے۔تفسیر۔بے شک ان لوگوں سے غیر معمولی سلوک ہوا مگر غیر معمولی سلوک الٰہی باتوں کے معاملہ میںتھا جن کا ذکرالہام میں آیا تھا۔ورنہ عام طبعی باتوں میں وہ دوسرے انسانوں کے مشابہ تھے۔لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَؒ۰۰۱۱ ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب اتاری ہے جس میںتمہاری بزرگی کے سامان ہیں۔کیا تم عقل نہیںکرتے۔حل لغات۔ذِکْرٌ۔ذِکْرٌکے معنےشرف کے ہیںیعنی بزرگی اور عزت (اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے الہام الٰہی رحمت کے طورپرآتاہے نہ کہ لعنت کے طورپر جیسا کہ عیسائیوں کاخیال ہے (گلتیوں باب ۳ آیت ۱۳)۔چنانچہ د یکھ لو۔قرآن کریم میں وہ تعلیم ہے کہ اگر تم اس پرعمل کرو گے تو تم کو بڑاشرف نصیب ہوگا مثال کے طورپر قرآن کہتاہے ہمیشہ سچ بولو قرآن کہتاہے ایفائے عہد کرو۔قرآن کہتاہے چوری نہ کروقرآن کہتاہے ظلم نہ کرو۔قرآن کہتاہے کہ مال ہو تو غریبوں پر خرچ کرو۔صرف اپنے نفس کا خیال نہ رکھو ہاں اپنے اہل وعیال کو بھی توفیق کے مطابق خرچ دو۔قرآن کہتا ہے کہ اگر دو حکومتیں آپس میںلڑپڑیں تو ان میںصلح کرائو۔اور صلح کے وقت اپناحصہ بٹوارے میںنہ رکھو اور جب معاملہ کرو انصاف اور عدل کے ساتھ کرو بیویوں اور نوکروں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔مزدور کو اس کا حق اداکرو مسافروں کی خبر گیری رکھو قرض داروں کے قرضے چکائو۔غلاموں کو آزاد کرائو۔جو مخلوقات مانگ نہیںسکتی یعنی بے زبان ہے یامانگنے کو عار سمجھتی ہے ان کی خبر گیری کرو اور ظالم کو اس حد