تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 207
اس کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ایسا اس لئے کرتے ہیں تاکہ اِن شیطانی فتنوں کے ذریعہ نبیوں کی جماعتیں ہر قسم کی منافقت اور بے ایمانی رکھنے والوں سے پا ک ہو جائیں اور دشمنوں کی عداوت لوگوں پر ظاہر ہو جائے۔جب شیطان روکیں پیدا کرتا ہے تو جن لوگوں کے دلوں میں بدی ہوتی ہے اور جن کے قلوب سخت ہوتے ہیں وہ اس کی بات مان لیتے ہیں اور بلاوجہ مومنوں پر ظلم کرنے لگ جاتے ہیں۔پس کمزور ایمان والوں کی کمزوری اور دشمنوں کی دشمنی دونوں ظاہر ہو جاتی ہیں اور پتہ لگ جاتا ہے کہ اسلام کے دشمن ضد اور مخالفت میں کس قدر بڑھے ہوئے ہیں۔اور یہ بھی پتہ لگ جاتا ہے کہ اسلام پر سچا ایمان لانے والے لوگ شریروں کی شرارتوں سے ڈرتے نہیں بلکہ ایمان میں اَور بھی بڑھتے ہیں۔اور اس طرح مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت میں بڑھاتا چلا جاتا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بیان فرمایا ہے کہ جب بھی کوئی نبی آتا ہے اور وہ لوگوں کی اصلاح کی تجاویز کرتا ہے تو شیطان اس کے راستہ میں روکیں ڈالنی شروع کر دیتا ہے مگر اُس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ منافق اور کمزور ایمان لوگ الگ ہو جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے سلسلہ کی مضبوطی اور اس کی عظمت کو اور بھی بڑھا دیتا ہے۔اب ان معنوں پر غور کرو اور دیکھو کہ یہ معنے تمام نبیوں کو عمومًا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصاً کس طرح شیطان کے تصرف سے محفوظ رکھتے ہیں۔بلکہ اُلٹا یہ بتاتے ہیں کہ نبیوں پر شیطان کا تصرف تو الگ رہا شیطان اُن سے ماریں کھاتا ہے۔اور جب ہم قرآن کریم کی یہ آیت مدنظر رکھیں کہ اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطَانٌ ( بنی اسرائیل:۶۶) کہ میرے بندوں پر تجھے کبھی غلبہ نصیب نہ ہوگا تو میرے کئے ہوئے معنے ہی ٹھیک ثابت ہوتے ہیں۔اور مفسرین کے کئے ہوئے معنے غلط ثابت ہوتے ہیں۔کیونکہ کسی نبی کی زبان پر شیطان کا قبضہ خصوصاً وحی کی تلاوت کے وقت تو اتنا بڑا ’’ سلطان‘‘ ہے کہ جس کی مثال دنیا میں نہیں پائی جاتی۔ہم تو معمولی انسانوں کو دیکھتے ہیں کہ حکومتیں اُن پر کتنا ہی جبر کریں وہ اُن کے خلاف نعرے لگاتے جاتے ہیں۔پھر یہ کہنا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو سب نبیوں کے بھی سردار تھے شیطان نے اُن کی زبان پر تصرف کر لیا اور نعوذبا للہ اُن کے منہ سے شرکیہ کلمات نکلوا دئے۔یہ تو سورۂ بنی اسرائیل والی آیت کی صریح تردید ہے اور قرآن کریم کی کوئی آیت دوسری آیت کی تردید نہیں کر سکتی۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا (النساء :۸۳)یعنی کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے۔اگر یہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں عظیم الشان اختلاف پائے جاتے بعض لوگ غلطی سے سمجھتے ہیں کہ اس آیت میں چونکہ کثیر ًا کا لفظ ہے اس لئے اس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا دوسروں کے کلام میں بہت سے اختلاف پائے جاتے ہیں لیکن خدا کے کلام میں بہت سے اختلا ف