تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 206
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۰۰۵۵وَ لَا يَزَالُ الَّذِيْنَ جائیں اور اللہ (تعالیٰ) مومنوں کو ضرور سیدھے راستہ کی طرف ہدایت بخشنے والا ہے۔اور کافر اس (قرآن) کے متعلق كَفَرُوْا فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ اُس وقت تک کہ( تباہی کی) گھڑی اچانک آجائے یا اُن کے پاس اُس دن کا عذاب آجائے تو یَاْتِيَهُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيْمٍ۰۰۵۶ اپنے پیچھے کچھ نہیں چھوڑتا شبہ میں پڑے رہیں گے۔حلّ لُغَات۔اَلْفِتْنَۃُ اَلْفِتْنَۃُ کے معنے ہیں اَلْخِبْرَۃُ وَالْاِبْتِلَاءُ۔امتحان و آزمائش (اقرب)۔اَلضَّلَالُ وَالْاِثْمُ وَالْکُفْرُ۔گمراہی۔گناہ اور کفر ، اَلْفَضِیْحَۃُ رسوائی۔اَلْعَذَابُ۔عذاب اَلْعِبْرَۃُ۔عبرت۔(اقرب) شِقَاقٍ شَاقَّہٗ شِقَاقًا کے معنے ہیں خَالَفَہٗ وَعَادَاہُ۔اس کی مخالفت اور دشمنی کی۔وَحَقِیْقَتُہٗ اَنْ یَّاْتِیَ کُلُّ وَاحِدٍمِّنْھُمَا فِیْ شِقٍّ غَیْرَ شِقِّ صَاحِبِہٖ۔عربی زبان میں شق کے معنے جانب کے ہوتے ہیں اور شَاقَّہٗکے معنے ہوتے ہیں۔دونوں نے اپنا اپنا پہلواختیار کیا اور ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق نہ کیا ( اقرب ) پس شِقاقٌ کے معنے ہوںگے مخالفت کرنا۔تُخْبِتُ۔تُخْبِتُ اَخْبَتَ سے مضارع واحد مؤنث کا صیغہ ہے۔اور اَلْاِخْبَاتُ ( جو اَخْبَتَ کا مصدر ہے ) کے معنے ہیں اَللِّیْنُ وَالتَّوَاضِعُ۔نرمی اور عاجزی ( مفردات ) پس تُخْبِتُ کے معنے ہیں۔عاجزی کریں اور تواضع اختیار کریں۔مِرْیَۃٌ۔مِرْیَۃٌ کے معنے ہیں اَلشَّکُّ۔شک اَلْجَدَلُ جھگڑا ( اقرب) یَوْمٌ عَقِیْمٌ یَوْمٌ عَقِیْمٌ کے معنے ہیں جس میں کوئی خیرو برکت نہ ہو ( اقرب) مفردات میں ہے۔یَوْمٌ عَقِیْمٌ: لَافَرَحَ فِیْہِ۔ایسا دن جس میں کوئی خوشی نہ ہو۔تفسیر۔اب سوال پیدا ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ شیطان کو نبیوں کے راستہ میں کیوں روکیں ڈالنے دیتا ہے۔