تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 208
نہیں پائے جاتے۔چونکہ یہاں کثیراً کا لفظ ہے اس لئے یہ آیت ایک اختلاف کو ردّ نہیں کرتی مگر کثیر کے معنے عربی زبان میں عظیم الشان کے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ مفردات میں لکھا ہے وَلَیْسَتِ الْکَثْرَۃُ إِشَارَۃً اِلیٰ الْعَدَدِ فَقَطْ بَلْ اِلَی الْفَضْلِ یعنی قرآن شریف میں بعض جگہ جو کثیر کا لفظ استعمال ہو ا ہے اس کے صرف یہ معنے نہیں کہ تعداد میں زیادہ بلکہ مطلب یہ ہے کہ شان میں بڑا اور قرآن کریم میں یہ اختلاف ماننا کہ ایک طرف تو وہ کہتا ہے کہ میرے نیک بندوں پر شیطان کوکبھی تصّرف نہیں ہوگا۔اور دوسری طرف وہ یہ بھی کہتا ہے کہ ہر نبی اور رسول پر شیطان کو تصرف دیا گیا تھا وہ اس کی وحی میں اپنی طرف سے کچھ ملا دیتا تھا یہ اتنا بڑا اختلاف ہے کہ جس سے بڑا اختلاف قیاس کرنا بھی مشکل ہے پس سورۂ نساء کی آیت کے مطابق اس کے ایسے معنے کرنے بالکل باطل اور غلط ہیں اور قرآن کریم کی تعلیم کے صریح خلاف ہیں۔دوسری تشریح آیت لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا کی یہ ہے کہ منطق کے قضیہ حملیہ کی رُو سے بالمقابل قضیہ نکالنا جسے مفہومِ مخالف بھی کہتے ہیں جائز نہیں ہوتا۔مثلاً اگر ہم یہ کہیں کہ فلاں شخص کا سر بڑا ہے تو اس فقرہ سے یہ نتیجہ نکالنا ہرگز جائز نہیں ہوگا کہ اُس کے پائوںچھوٹے ہیں اسی طرح قرآن کریم کا یہ دعویٰ کہ لَوْکَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا جو قضیہ شرطیہ پر مشتمل ہے قضیہ حملیہ کی صورت میں یہ معنے رکھتا ہے کہ غیر اللہ کے کلام میں بڑا اختلاف پایا جاتا ہے لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہوںگے کہ خدا کے کلام میں تھوڑا سا اختلاف ہوتا ہے کیونکہ یہ نتیجہ ایک ایسا مفہومِ مخالف ہے جو منطق کی رُو سے جائز نہیں جیسا کہ ہم اوپر کی مثال سے ظاہر کر چکے ہیں۔پھر فرماتا ہے۔وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْہُ حَتّٰی تَاْتِیَھُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً اَوْیَاْتِیَھُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ۔کفار اُس وقت تک صداقت کے بارے میں شبہ میں ہی رہتے ہیں یہاں تک کہ اُن کی تباہی کی گھڑی اُن پراچانک آجاتی ہے یا اُن پر عذاب کا وہ دن آجاتا ہے جو اپنے پیچھے کچھ بھی نہیں چھوڑتا۔دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے زمانہ میں کون شخص تھا جو یہ یقین رکھتا تھا کہ مکہ میں رہنے والے چند غریب لوگ تھوڑے ہی عرصہ میں سارے عرب پر چھا جانے والے ہیں لیکن ہجرت کے معاً بعد یعنی دوسرے ہی سال مکہ کے وہ رئو ساء جو اسلام کی ہستی کو مٹا دینے پر تُلے ہوئے تھے اور جو غریب مسلمانوں پر طرح طرح کے ظلم و ستم کر تے تھے بدر کے میدان میں اس طرح ذبح کر دئیے گئے جس طرح باولے کتے گائوں کی گلیوں میں مروا دئیے جاتے ہیں۔حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں طوفان آیا مگر طوفان آنے سے قبل آخری وقت تک آپ کی قوم ہنستی رہی اور یہی کہتی رہی کہ ہاں ہم غرق ہو جائیں گے اور تم بچ جائو گے۔اگر ہم غرق ہو گئے تو وہ جگہ کہاں ہے جہاں تم بھاگ جائو گے