تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 16

کیا ہو اس کی تائید میں دلائل دیئے جائیں۔یہ زیادہ سہل طریق ہوتاہے کہ خود اسی کی تسلیم کردہ باتوں میں سے کوئی اس کے سامنے پیش کردی جائے تاکہ ا س کی تائید میں جو دلائل اس کے ذہن میں ہوں انہی کے ذریعہ سے وہ اس بات کی صداقت کو بھی سمجھ لے جس پر وہ اعترض کرتاہے یہاں بھی بجائے یہ ثابت کرنے کے کہ نبی کے لئے بشر ہوناضروری ہے اللہ تعالیٰ صرف یہ حوالہ دیتاہے کہ پہلے نبی جن کو تم مانتے ہو و ہ بھی تو ایسے ہی تھے پھر تم نے ان کو کیوںمانا تھا۔وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا يَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا اور ہم نے ان (رسولوں)کو ایسا جسم نہیں دیاتھا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں۔اور نہ وہ غیر معمولی عمر خٰلِدِيْنَ۰۰۹ پانے والے لوگ تھے۔حلّ لُغَات۔الجسد۔اَلْجَسَدُکے معنے ہیںجِسْمُ الْاِنْسَانِ انسان کاجسم۔وَکُلُّ خَلْقٍ لَا یَاْکُلُ وَلَا یَشْرَبُ مِنْ نَحْوِ الْجِنِّ وَالْمَلَائِکَةِ ہر وہ مخلوق جو نہ کھاتی ہے اور نہ پیتی ہے جیسے جن اور ملائکہ۔(اقرب) تفسیر۔یہاں سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قوم تو ان کو ابن اللہ مانتی ہے یارام اور کرشن کی قوم ان کوخدامانتی ہے کیونکہ وہ ابن اللہ مانیں یا خدامانیں وہ اس سے انکار نہیں کرسکتے کہ وہ عورتوں کے پیٹ سے پیدا ہوئے اور انسانوں جیسا جسم رکھتے تھے اور کھانے پینے سے آزاد نہیںتھے اور نہ موت سے آزاد تھے یہ اقرار ثابت کرتاہے کہ درحقیقت ان کی قوم ان کو انسان ہی مانتی تھی چنانچہ دیکھ لو اسلام کے ذریعہ سے توحیدکی ضرب ایسی کار ی پڑی کہ اب ہندو اور عیسائی بھی کہنے لگ گئے ہیں کہ ہم موحد ہیں۔