تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 180

وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ۔الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِيْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِيْمِي الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ میں خدا تعالیٰ کے حضور عاجزی کرنے والوں کی چار علامات بتا ئی گئی ہیں۔اوّل۔یہ کہ اللہ تعالیٰ کا نام آنے پر اُن کے دل کانپ اُٹھتے ہیں۔دوم۔خدا تعالیٰ کی راہ میں مصائب اور مشکلات کے آنے پر وہ اُن کو بخندہ پیشانی بر داشت کرتے ہیں۔سوم۔با جماعت نمازیں ادا کرتے ہیں۔چہارم۔اُن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ بھی ملتا ہے اس کا ایک حصہ وہ اس کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔اس جگہ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ میں صرف روپیہ ہی شامل نہیں کہ انسان کچھ روپے خدا تعالیٰ کی راہ میں دے کر اپنے فرض کو ادا کرنے والا سمجھا جا سکے بلکہ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ میں اُس کی آنکھیں بھی شامل ہیں اس کا دماغ بھی شامل ہے۔اُس کے کان بھی شامل ہیں اس کی ناک بھی شامل ہے اُس کے ہاتھ اور پائوں بھی شامل ہیں۔اُس کا دھڑ بھی شامل ہے۔پھر مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ میں اس کا مکان بھی شامل ہے۔وہ گندم بھی شامل ہے جو وہ استعمال کرتا ہے بلکہ وہ مولیاں اور گاجریں اور گُڑ بھی شامل ہیں جو زمیندار پیدا کرتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ روپیہ خرچ کر کے ایک شخص مالی قربانی کرنے والا قرار پا سکتا ہے لیکن شریعت صرف مالی قربانی کا حکم نہیں دیتی بلکہ شریعت یہ کہتی ہے کہ ہم نے تمہیں جو کچھ دیا ہے اس کاایک حصہ تم خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔پس اگر کوئی شخص اپنی ساری جائیداد بھی چندہ میں دے دیتا ہے لیکن اس کی آنکھیں خدا تعالیٰ کے بندوں کی خدمت میں حصہ نہیں لیتیں ، اُس کے ہاتھ پائوں خدا تعالیٰ کے بندوں کی خدمت میں حصہ نہیں لیتے تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے اپنی ساری جائیداد دے کر اپنے فرض کو ادا کر دیا ہے۔یہ چیز منطق تو کہلا ئےگی لیکن دین نہیںکہلائےگا۔دین کا تقاضا پورا کرنے کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ اپنے سارے جسم کو خدا تعالیٰ کے بندوں کی خدمت کے لئے استعمال کرے۔احادیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن جب تمام انسان خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہوںگے تو وہ بعض لوگوں سے کہے گا کہ اے میرے بندو! میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کھلایا میں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی پلایا۔میں ننگا تھا تم نے مجھے کپڑے پہنائے میں بیمار ہوا تم نے میری تیمارداری کی۔اس لئے جائو اور میری جنت میں داخل ہو جائو۔وہ بندے کہیں گے۔توبہ توبہ بھلا ہماری کیا طاقت تھی کہ ہم تجھے کھانا کھلاتے یا پانی پلاتے یا کپڑے پہناتے یا بیماری پر تیری عیادت کرتے تو تو ان تمام باتوں سے پاک ہے۔وہ فرمائے گا یہ درست ہے لیکن جب میرا ایک ادنیٰ سے ادنیٰ بندہ تمہارے پاس آیا اور وہ بھوکا تھا تو تم نے اُسے کھانا کھلایا تو گویا مجھے ہی کھانا کھلایا۔اور اسی طرح جب میرا ایک ادنیٰ سے ادنیٰ بندہ تمہارے