تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 181
پاس آیا اور وہ پیاسا تھا۔اور تم نے اُسے پانی پلایا توگویا تم نے مجھے ہی پانی پلایا۔اسی طرح جب تم نے ایک ننگےکو کپڑا پہنایا یا ایک بیمار کی تیمارداری کی تو تم نے ایک بندے کو کپڑا نہیں پہنایا یا ایک بندے کی تیمارداری نہیں کی بلکہ درحقیقت تم نے مجھے کپڑا پہنایا۔اور تم نے میری تیمارداری کی۔اس لئے جائو اور میر ی جنت میں داخل ہو جائو۔(مسلم کتاب البر و الصلۃ و الادب باب فضل عیادۃ المریض)۔غرض مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ میں اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ایک مومن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس قدر طاقتیں اور قوتیں ملی ہوئی ہیں اُس پر فرض ہے کہ وہ اپنی ہر طاقت کو بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے صرف کرے اور صرف اس امر پر خوش نہ ہوجائے کہ اُس نے روپیہ دے دیا تھا یا نماز پڑھ لی تھی یا روزہ رکھ لیا تھا۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ مالی قربانی کی تحریک کی تو ایک صحابی جن کے پاس اَور کچھ نہیں تھا وہ جَو کی دو مٹھیاں لائے اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیں منافقوں نے اس بات کو دیکھا تو وہ ہنسے اور کہنے لگے لو اَب دنیا جَو کی ان دومٹھیوں سے فتح ہوگی (بخاری کتاب التفسیر سورۃ براءۃ قولہ تعالیٰ والذین یلمزون المطوعین من المومنین فی۔۔۔۔۔۔۔)۔حالانکہ اگر اُن کی آنکھ کھلی ہوتی تو وہ سمجھتے کہ یہ جَو کی دو مٹھیاں نہیں تھیں بلکہ اسلام کی محبت میں بیتاب ہونے والے ایک دل کے خون کے دو قطرے تھے جو اُس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے۔اور دنیا دل کے خون کے قطروں سے ہی فتح ہوا کرتی ہے۔دنیاوی سامانوں سے نہیں۔پس ایمانِ کامل کی علامت یہ ہے کہ جو کچھ تم گھروں میں کھاتے ہو اور جو کچھ کماتے ہو اور جو کچھ پہنتے ہو اور جو کچھ خرچ کرتے ہو۔اُس کا ایک حصہ خدا تعالیٰ کی راہ میں بھی دو اور اپنی ہر طاقت بنی نوع انسان کی بھلائی اور اُن کی بہبودی کے لئے صرف کرو۔پھر فرماتا ہے۔وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ اور تُو ان کو بتا دے کہ قربانیوں کو ہم نے شعائر اللہ قرار دیا ہے۔یعنی وہ انسان کو خدا تک پہنچاتی ہیں اور اُن کے ذریعہ سے دینی اور دنیوی بھلائی ملتی ہے۔پس قربانی کے دنوںمیں قربانیوں کو صف در صف کھڑا کرکے اُن پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا کرو تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے کام آئیں۔چنانچہ جب وہ ذبح ہو کر اپنے پہلوئوں پر گِر جائیں تو خود بھی اُن کا گوشت کھائو اور صابر غریب اور مضطر غریب کو بھی کھلائو۔یہ سب مال ہم نے تم کو دیا ہے تاکہ اس کو غریبوں پر خرچ کرکے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔ان آیا ت میں اللہ تعالیٰ نے ان قربانیوں کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی ہے جو حج بیت اللہ کے موقعہ پر کی جاتی ہیں اور بتایا ہے کہ یہ قربانیاں شعائر اللہ میں داخل ہیں اور تمہارے لئے ان قربانیوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے