تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 179
کو یہ سبق دینا چاہتا تھا کہ اصل قربانی یہ ہے کہ انسان اس غرض سے تکلیف اُٹھائے کہ اس کا فائدہ دنیا کو پہنچے۔پس وہی قربانی اس کی نظر میں مقبول ہو سکتی ہے جو بنی نوع انسان کی زندگی کا موجب ہو۔اس جگہ یہ امر بھی مدّنظر رکھنا ضرور ی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا فرما کر قربانی کی حقیقت اور اس کے فلسفہ پر بھی نہایت لطیف رنگ میں روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ محض قربانی کو ئی چیز نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی نگا ہ میں وہ جذبۂ اخلاص قدرو قیمت رکھتا ہے جو اس قربانی کے پس پشت ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص اعلیٰ درجہ کا دُنبہ تو ذبح کر دیتا ہے لیکن وہ قربانی میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کو مدنظر نہیں رکھتا تو اس کی یہ قربانی خدا تعالیٰ کے حضور ایک پرکاہ کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھ سکتی۔یہ لطیف اشارہ اللہ تعالیٰ نے مَنْسَکًا کا لفظ استعمال فرما کر کیا ہے جس کے معنے عربی زبان میں شِرْعَۃُ النَّسْکِ۔نَفْسُ النَّسْکِ اور مَوْضِعٌ تُذْبَحُ فِیْہِ النَّسِیْکَۃُ کے ہوتے ہیں یعنی مَنْسَکٌ قربانی کے طریق کو بھی کہتے ہیں۔نفسِ قربانی کو بھی کہتے ہیں اور اُس جگہ کو بھی کہتے ہیں جہاں قربانی کی جاتی ہے اور نَسِیْکَۃٌ کا لفظ جو عربی زبان میں قربانی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے نَسَکَ سے نکلا ہے اور نَسَکَ لِلٰہِ کے معنے ہوتے ہیں تَطَوَّعَ بِقُرْبَۃٍ وَ ذَبَحَ لِوَجْھِہٖ ( اقرب) یعنی کسی نیک کام کو بغیر اس کے کہ اُس کے کرنے کا حکم دیا گیا ہو یا بغیر اس کے کہ اُس کی ذمہ داری کسی پر ڈالی گئی ہو اپنی خوشی اور رضا سے کسی شخص نے سرانجام دیا۔اور اس نیت سے کام کیا کہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی اُسے حاصل ہو جائے۔گویا نسیکۃ کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ جبر کے ماتحت نہ ہو بلکہ طبعی رغبت اور ارادہ اور خواہش سے ہو اور پھر خالصۃً لِلّٰہ ہو۔اور اسی طرح نَسَکَ الثَّوْبَ کے معنے ہوتے ہیں غَسَلَہٗ بِالْمَائِ فَطَھَّرَہٗ۔اُس نے کپڑے کو پانی سے دھویا اور اُس میں سے ہر قسم کی مَیل نکال دی۔پس اس آیت میں مَنْسَکًا کا لفظ استعمال فرما کر اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ تم ہمیشہ اپنی خوشی اور بشاشت ِ قلبی کے ساتھ قربانیوں میں حصّہ لو۔یہ نہ ہو کہ تمہیں کسی کا جبر قربانی پر آمادہ کر رہا ہو۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے حضور وہی قربانی مقبول ہوتی ہے جو بشاشتِ قلب کے ساتھ کی جائے۔دوم صرف بشاشتِ قلب کا مدنظر رکھنا ہی تمہارے لئے ضروری نہیں بلکہ اس سے اگلا قدم یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی رضا اور اُس کی خوشنودی کو ملحوظ رکھتے ہوئے قربانیاں کرو۔اور تیسری بات یہ ہے کہ قربانی کرتے وقت اپنے دل کے تما م گوشوں کو ٹٹو لو اور دیکھو کہ کیا کسی دنیوی غرض کی ملونی تو اس میں نہیں کیونکہ اگر ایسا ہو تو تمہاری قربانی خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کا شرف حاصل نہیں کر سکتی۔یہ نہایت لطیف اور قیمتی اسباق اللہ تعالیٰ نے محض ایک چھوٹے سے لفظ میں بیان کر دئے ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر انسان اپنی قربانیوں کے اعلیٰ نتائج حاصل کر سکتا ہے۔