تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 178

بیٹے کو چھری سے قربان کر دو۔اور پھر جب وہ قربان کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں روک دیا تو پہلا حکم بالکل بےفائدہ قرار پاتا ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہی نہیں تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو اس طرح قربان کریں۔تو انہیں قربان کرنے کا حکم کیوں دیا گیا اور کیوں بعد میں اُن سے صرف مینڈھے کی قربانی کو قبول کر لیا گیا۔پس بائیبل جو کچھ بتاتی ہے وہ عقلی طور پر ایک قابلِ اعتراض صورت ہے جس میں خدا تعالیٰ کے ایک حکم کو بے کار قرار دینا پڑتا ہے۔لیکن قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ رؤیا دیکھا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں (الصفت:۱۰۳)جس کی تعمیل میں انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ایک وادیٔ غیر ذی زرع میں جا کر چھوڑ دیا اور اس طرح عملی رنگ میں اپنے ہاتھوں انہیں ذبح کر دیا۔گویا بائیبل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں انسانی قربانی کو بطور اصل پیش کرتی ہے اور جانور کی قربانی کو اس کا قائم مقام قرار دیتی ہے۔لیکن اسلام صرف جانور کی قربانی کو ہی اصل قربانی قرار دیتا ہے اور بتا تا ہے کہ ہر مذہب میں خدا تعالیٰ کی طر ف سے جانوروں کی قربانی ہی اصل قربانی مقر ر کی گئی تھی۔انسانی قربانی کا جو اُن میں رواج پیدا ہوا وہ منشاء الٰہی کے خلاف اور مذہب کے بگاڑ کا نتیجہ تھا۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسانی قربانی کا رواج منشاء الٰہی کے خلاف تھا تو پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو رؤیا میں یہ کیوں دکھا یا گیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کررہے ہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ رؤیا دراصل اپنے اندر تعبیری رنگ رکھتی تھی جسے بعد میں رُونما ہونے والے واقعات نے ظاہر کر دیا۔اور وہ تعبیر یہ تھی کہ ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے اسمعٰیل ؑ کو خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ایک ایسی جگہ اور ایسے حالات میں چھوڑ کر آئیں گے کہ جہاں ظاہر ی حالات کے مطابق اُن کی موت یقینی ہو گی لیکن اللہ تعالیٰ اُن کی اس قربانی کو قبول فرما کر اُن کی زندگی کے سامان پیدا کر دےگا اور اُن کے ذریعہ سے اس قدیم معبد کو جسے اللہ تعالیٰ دنیا کا آخری معبد بھی بنانا چاہتا تھا آباد کر ائے گا تاکہ جس طرح اللہ اوّل اور آخر ہے اسی طرح اس کا گھر یعنی مکہ مکرمہ بھی اوّل گھر اور آخر گھر بن جائے۔چنانچہ مسلمانوں میں عیدالاضحی کی یاد گار کسی ایسے بکرے کی قربانی کے بدلے میں نہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کیا ہو بلکہ خود حضرت اسمعٰیل علیہ السلام کی قربانی کی یاد گار میں ہے۔جو بیت اللہ کو آباد رکھنے کے لئے کی گئی۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے کو ایک بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آنا اپنے ہاتھوں قتل کرنے کے متراد ف تھا۔بلکہ حقیقتاً اُس سے بھی زیادہ۔کیونکہ قتل کرنے سے ایک منٹ میں جان نکل جاتی ہے اور اس طرح اگر خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو انہوں نے سسک سِسک کر جان دینی تھی۔پس حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ رؤیا انسانی قربانی کی ترویج کے لئے نہیں تھا بلکہ اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ دُنیا