تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 167
نہیں سمجھتے۔خصوصیت کے ساتھ اس زمانہ میں یہ مرض زیادہ پایا جاتا ہے کیونکہ یہ زمانہ مداہنت اور نفاق کا زمانہ ہے اور تہذیب کے معنے آجکل یہ سمجھے جاتے ہیں کہ بات کرنےوالا دوسرے کے خیالات کا اس حد تک خیال رکھے کہ اگر اُسے سچائی بھی چھپانی پڑے تو اس سے دریغ نہ کرے۔مگر زمانہ کی رَو کے باوجود ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اس بدی کا پورے زور سے مقابلہ کرے اور اُسے کچلنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرے کیونکہ جھوٹ بولنے والا دوسروں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے اور دھوکا ایک ایسی چیز ہے جس سے لوگوں کو نقصان پہنچتا ہے۔پس جھوٹ بولنے والا صرف اخلاقی مجرم ہی نہیں بلکہ بنی نوع انسان کا دشمن اور انہیں تباہ کرنے والا بھی ہے۔اور اس عیب کو مٹانا ہر سچےاور مخلص مسلمان کا فرض ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی علامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس کی ایک علامت یہ ہے کہ جب وہ بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے(بخاری کتاب الایمان باب علامة المنافق) اور منافق کے متعلق قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُسے دوزخ کے سخت ترین مقام میں رکھا جائےگا (النساء:۱۴۶)۔گویا خدا تعالیٰ منافقوں کے ساتھ کفار سے بھی سخت معاملہ کرے گا۔اس لئے کہ کافر کی وجہ سے تو کافر کو ہی نقصان پہنچتا ہے مگر منافق کی وجہ سے مسلمانوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔جو قوم اپنے افراد میں سے جھوٹ نہیں مٹا سکتی اور اس کے باوجود وہ یہ سمجھتی ہے کہ اُسے ترقی اور عزت حاصل ہو جائےگی۔اُس کا یہ خیال ایسا ہی خام ہے جیسے ایک بچہ کا یہ خیال کہ وہ چاند کے پاس پہنچ جائےگا یا ستاروں کے پاس پہنچ جائےگا۔جس طرح ایک بچہ کی چاند یا ستاروں تک پہنچنے کی خواہش ناکام رہتی ہے اسی طرح وہ قوم جس کے اندر جھوٹ پایا جاتا ہو کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور راستبازی کا یہ حال تھا کہ آپ کا دشمن بھی اقرار کرتا تھا کہ آپ سچائی کے اعلیٰ مقام پر ہیں۔چنانچہ جب آپ پر یہ وحی نازل ہوئی کہ لوگوں کو ہدایت کی طرف بلائو تو آپ نے صفا پر چڑ ھ کر مکّہ کے لوگوں کوبلانا شروع کیا۔جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا اگر میں تمہیں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بہت بڑا دشمن تم پر حملہ کرنے کے لئے جمع ہے تو کیا تم میری بات مان لو گے؟ اب بظاہر یہ ناممکن تھا کہ اتنی بڑی فوج وہا ں جمع ہو اور مکّہ والوں کو اس کا علم تک نہ ہو۔مگر انہوں نے کہا کہ ہاں ہم مان لیں گے کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ آپ کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔( بخاری کتاب التفسیر سورة الشعراء،تفسیر روح المعانی زیر آیت تَبَّتْ یَدَٓا اَبَیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ)اسی طرح جب قیصر رومانے ابو سفیا ن کو اپنے دربار میں بُلا کر اس سے پُوچھا کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھیوں نے تمہارے ساتھ کبھی جھوٹا معاہدہ کیا ہے تو ابو سفیان نے کہا کہ پچھلے افعال کے متعلق تو میں کو ئی گرفت نہیں کرتا۔لیکن اب انہوں نے ایک نیا معاہدہ کیا ہے۔دیکھیں وہ عہد شکنی کرتے ہیں یا نہیں۔اس پر قیصر نے کہا کہ آئندہ کا ذکر